خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد 13 415 خطبہ جمعہ فرمود و 3 جون 1994 ء صلى الله رفتہ رفتہ آپ اور دور ہٹتے چلے جائیں گے۔پس یہ یقینی بنادیں کہ آپ کا ہر قدم آنحضور ﷺ کی طرف اٹھ رہا ہو۔اگر کمزور ہیں تو آہستہ قدم اٹھے گا۔اگر لاچار ہیں اور کھڑے ہو کر نہیں چل سکتے تو گھسٹتے ہوئے چل سکتے ہیں اگر گزوں اور فٹوں میں نہیں جا سکتے تو انچ انچ کچھ نہ کچھ تو سرکتے ہوئے آگے جا سکتے ہیں مگر اگر آپ آگے بڑھ رہے ہیں تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔پھر آپ کی کمزوریاں آپ کی راہ میں حائل نہیں ہونے دی جائیں گی کیونکہ خود آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص جو بہت ہی زیادہ گنہ گار تھا اور بہت سے قتل کر چکا تھاوہ بزرگوں کے پاس جانے لگا اور ان سے پوچھنے لگا کہ میرے گناہ کا کوئی علاج ہے اور میرے اتنے گناہ ہیں تو بزرگ یہ سمجھ کر کہ اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے اسے جواب دے دیتا کہ نہیں تمہارا کوئی علاج نہیں۔وہ کہتا تھا اچھا پھر اگر میرا علاج ہی کوئی نہیں تو ایک گناہ اور سہی وہ اسے بھی قتل کر دیا کرتا تھا۔اسی طرح وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ کسی ایک عارف باللہ کے پاس وہ پہنچا اس نے کہا خدا ہر گناہ بخش سکتا ہے اگر تمہارے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو اور تم گناہوں کے شہر سے ہجرت کر کے نیکیوں کے شہر کی طرف چلنا شروع کرو آنحضور ﷺ اسے ایک بہت ہی پیاری تمثیل سے بیان فرماتے ہیں۔کہتے ہیں اس شخص نے گناہوں کے شہر سے (ایک تمثیل ہے مراد یہ نہیں کہ کوئی گناہوں کا شہر تھا کوئی نیکیوں کا شہر تھا ) مراد ہے ایک طرف ہجرت شروع کی یعنی بدیاں چھوڑنی شروع کر دیں اور نیکیوں کے شہر کی طرف بڑھنا شروع ہوا یعنی نیکیاں اختیار کرنی شروع کر دیں۔وہ کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ پہنچی اور وہ خدا کے حضور حاضر ہوا۔فرشتوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو یہ بندہ بدیوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف ہجرت کر رہا تھا اس لئے اس کی بخشش کا سامان ہونا چاہئے۔انہوں نے عرض کیا کہ یا اللہ یہ تو تھوڑ اسا سفر ہی طے کر سکا تھا۔اللہ نے فرمایا پیمائش کرو بدیوں کے شہر سے اس مقام تک جہاں اس نے جان دی ہے اور پھر نیکیوں کے شہر سے اس مقام کی جہاں اس نے جان دی ہے۔یہ اللہ کے انداز ہیں مغفرت کے اور آنحضرت ملے ہمیں ایک بہت گہری حکمت سمجھا رہے ہیں ورنہ یہ مراد نہیں کہ فیتوں کے ساتھ کوئی پیمائش کی جاتی ہے مگر تمثیل ہے بہت پیاری کہ جب خدا نے ان سے کہا کہ بدیوں کے شہر سے اس شخص کی وہاں تک پیمائش کرو جہاں اس نے جان دی تو جب وہ پیمائش کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس زمین کو بڑھاتا چلا جاتا تھا یہاں تک کہ اس کا بہت فاصلہ بڑھ گیا اور جب نیکیوں