خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد 13 416 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء کے شہر کی طرف سے فرشتوں نے پیمائش شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو سیکٹر نا شروع کیا یہاں تک کہ وہ بہت قریب دکھائی دینے لگی۔تب اللہ نے فرمایا کہ دیکھو نیکیوں کا شہر اس کے قریب تر تھا۔(مسلم کتاب التو بہ حدیث نمبر: 4968) مراد یہ ہے کہ اگر آپ اپنی زندگی میں بالا رادہ بدیوں سے نیکیوں کی طرف حرکت شروع کر دیں۔آنحضرت مے کے عدم سے آپ کے وجود کی طرف جانا شروع کر دیں تو پھر اگر تھوڑا سا سفر طے کر کے ہی آپ کی موت آجائے تو اللہ تعالیٰ آپ کے سفر کو برکت بخشتا ہے اور یہ مغفرت کا سلوک فرماتا ہے کہ اگر آپ زندہ رہتے تو آپ نے ضرور پہنچنا تھا۔اسی کو فضل الہی کہا جاتا ہے۔پس بخشش اصل میں فضل سے ہوتی ہے اور فضل میں یہ مضمون بہت ہی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ فضل کی کوئی وجہ ہوتی ہے خدا کے نزدیک بخشش میں بھی کچھ انصاف ہیں اور کوئی بھی خدا کا فعل خواہ وہ بے انتہا احسان کا ہو انصاف سے عاری نہیں ہوا کرتا تو انصاف کے تقاضوں میں خدا نے یہ بات داخل فرمالی ہے کہ اگر میرا بندہ نیک نیت سے نیکی کی طرف حرکت کر رہا ہے تو چونکہ اس کی زندگی میرے قبضہ میں ہے اس لئے مجھ پر ایک فرض ہے کہ اس کی نیکی کی قدر کروں اور یہ خیال کروں کہ اگر وہ زندہ رہتا اور اسی طرح آگے بڑھتا رہتا تو نیکیوں کو پالیتا۔پس یہ وہ مضمون ہے جو اس حدیث میں ہمیں سکھایا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھ کر آپ اپنے اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کریں اور آنحضرت ﷺ کی طرف ہجرت شروع کر دیں اور جوں جوں آپ آنحضور کے قریب ہوں گے اسی طرح اسی قدر آپ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ آنحضور سب سے زیادہ اپنی امت سے محبت کرنے والے تھے بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبہ: 128) سب سے پیار کرنے والے، رحمۃ للعالمین تھے۔تمام جہانوں کے لئے رحمت۔لیکن جہاں مومنوں کا ذکر ہے وہاں تو خدا فرماتا ہے رؤوف رحیم خدا کی صفات بیان کر دیں وہ تو گویا خدا کی طرح رأفت فرمانے والے اور بے حد رحم کرنے والے اور بار بار رحم کرنے والے تھے۔جو محمد رسول اللہ کے قریب ہو گا وہ لازماً امت کے قریب ہو گا۔پس اخلاق وہ سیمنٹ ہیں جن سے ایک طرف سے آپ آنحضور ﷺ سے جوڑے جاتے ہیں اور دوسری طرف حضور نبی اکرم ﷺ کے غلام اور