خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد 13 414 خطبہ جمعہ فرمود 30 جون 1994ء ضروری ہے کہ ایک ایک خلق محمدی پر غور کریں، ایک ایک نصیحت پر غور کریں اور دیکھیں کہ کس حد تک آپ پر چسپاں ہورہی ہے جہاں جہاں چسپاں ہو رہی ہے وہاں آپ کا حضور اکرم ﷺہے سے ایک تعلق قائم ہو گیا ہے جہاں جہاں نہیں ہو رہی وہ خلا ہیں۔جتنی زیادہ مضبوطی کسی تعلق کے لئے درکار ہو اتنے روابط بڑھائے جاتے ہیں اگر کہیں سے وہ روابط اکھڑنا شروع ہو جا ئیں تو بعض دفعہ قائم تعلقات کو بھی وہ خلا تو ڑ دیا کرتے ہیں اور وہاں سے بھی تعلقات اکھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔آنکھ کے Retina کی مثال ہے۔آنکھ کا وہ پردہ جس پر تصویر منعکس ہوتی ہے وہ تمام تر آنکھ کے ڈیلے سے جڑا ہوا ہے۔جہاں وہ تصویر منعکس ہوتی ہے وہ ایک جوڑ ہے جہاں ایک طرف ڈیلے کا آخری کنارہ ہے دوسری طرف وہ پر دہ ہے جس کے ساتھ دماغ کا تعلق ہے۔پس وہ پردہ کبھی کبھی ڈیلے کو بعض بیماریوں کے نتیجے میں کہیں کہیں سے چھوڑ نا شروع کر دیتا ہے۔خصوصیت سے وہ لوگ جو لوہارے کا کام کرتے ہیں اور بہت تیز بجلی کی شعاعوں سے جن سے لوہا پگھلایا جاتا ہے ان کی طرف ننگی آنکھ سے دیکھتے ہیں ان کی آنکھوں میں وہ جگہ جگہ ایسے خلا پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں کہ وہ پردہ کہیں سے اکھڑ جائے اور وہ لوگ جو سورج کو براہ راست دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی واقعہ ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی کو آنکھ برداشت نہیں کر سکتی یعنی اگر تیزی سے سامنے آنکھ اٹھا کر دیکھا جائے تو برداشت نہیں کر سکتی اور اس کے نتیجے میں کہیں کہیں وہ سیمنٹ اکھڑ جاتا ہے جو پردے کو ڈیلے کے ساتھ جوڑتا ہے اور جہاں جہاں سے وہ اکھڑتا ہے پھر وہاں سے اکھڑنا شروع ہو جاتا ہے اور ایسے لوگ بالآ خر اندھے ہو جاتے ہیں۔تو اگر آپ نے ان حصوں کی نگرانی نہ کی جن حصوں میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق موجود نہیں ہیں وہاں سے آپ کا تعلق اکھڑا ہوا ہے اور آپ محفوظ نہیں ہیں۔دو ہی قسم کے سفر ہیں یا تو تعلق بڑھاتے چلے جانے کا سفر ہے یا پھر تعلقات کم کرتے چلے جانے کا سفر ہے بیچ کی کوئی چیز نہیں۔پس اگر آپ نے توجہ کے ساتھ اپنے اخلاق کی نگرانی نہ کی تو آنحضرت ﷺ سے آپ کے وہ رابطے جو آپ سمجھتے ہیں کہ موجود ہیں وہ بھی قائم نہیں رہیں گے۔