خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 404

خطبات طاہر جلد 13 404 خطبه جمعه فرمودہ 27 مئی 1994ء صلى الله چھوٹی سی نیکی لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہو جاتے ہیں اور بڑے پھیل جاتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے فعل سے آپ بنی نوع انسان کو کئی قسم کی مصیبتوں سے بچا لیتے ہیں تو آنحضرت کے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے بعد وہ بدیاں کرتا رہا اور پھر بھی معاف رہا۔ اس مضمون کو ہمیشہ صحیح صورت میں سمجھنا چاہئے جب اللہ تعالیٰ کسی سے عفو کا سلوک فرماتا ہے اور اس کی بات کو پسند کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کو دوسری نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اور اسے واپس نہیں بلاتا جب تک کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ پس اس فیض کے ذریعے جو دوسروں کو پہنچا مسلسل اس کو بھی ایک فیض ملتا چلا جاتا ہے۔ اس کی اپنی وہ بدیاں دور ہونے لگتی ہیں جو خود اپنی ذات کے لئے خطرہ ہیں اور ان کی جگہ نیکیاں لے لیتی ہیں۔ ایک موقع پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ میں اسلام سے پہلے بھی بعض نیکیاں کیا کرتا تھا مثلاً پرندوں کو چوگا ڈال دیا کرتا تھا جو کچھ میسر آئے تا کہ یہ بھوکے نہ رہیں اس کا بھی کوئی اجر ہوگا جو اسلام سے پہلے پہلے نیکیاں کی ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہی تو اجر ہے ۔ تمہیں نہیں پتا چل رہا کہ تم مسلمان ہو گئے ہو یہ اس کا اجر ہے۔ تو یہ معنی ہیں مغفرت کے کہ ایک نیکی کئی بدیوں سے روکتی ہے اور نئی نیکیوں کو جنم دے جاتی ہے۔ پس جتنے لوگوں کو بھی اس شاخ سے نقصان پہنچ رہا تھا اور نہیں پہنچا اس کی نیکیاں اس شخص کے حق میں اس طرح لکھی گئیں کہ وہ خود اپنے نفس کی بدیوں سے بچایا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اس کو بلایا نہیں جب تک اس کی نیکیوں کا پلڑا بدیوں پر بھاری نہ ہو گیا۔ حضرت مقداد بن معدی کرب سے مروی ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا جب کوئی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو تو چاہئے کہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے(مشکوۃ المصابیح باب الحب في الله و من الله ) لیکن محبت کیسی ہے جس کا ذکر ضروری ہے۔ آپ کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے ورنہ بے ہودہ غلط محبتوں کی یہاں بات نہیں ہو رہی ۔ الله حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے افضل عمل اللہ کی خاطر محبت کرنا ہے اور اللہ کی خاطر بغض کرنا ہے۔ (سنن ابوداود كتاب السنة باب الاهواء)۔ پس عروسة جن محبتوں کا ذکر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فرما رہے ہیں وہ الہی محبت محبت ہے۔ اللہ کی خاطر آپ کسی بھائی کو پیار کرتے ہیں تو اس کو بتائیں کہ میں خدا کی خاطر تم سے پیار کرتا