خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد 13 403 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء آنحضرت ﷺ نے ایک دوسرے موقع پر فرمایا یہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بات ہو رہی ہے اس ضمن میں میں حوالہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ کوئی شخص جب ہماری مسجد یا بازار سے گزرے تو اپنے نیزے کی انی کو پکڑلے ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو لگ جائے۔(سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب في النبل يدخل في المسجد ) یعنی اپنی چیزوں سے دوسروں کی حفاظت کرنا تمہارا فرض ہے اور اگر بازار میں ہتھیار لے کر جارہے ہو تو اپنا ہا تھ اس پر رکھوتا کہ اگر ٹھوکر لگے اور صدمے سے تم اتفاقا گر جاؤ تو تم زخمی ہو، تمہارا بھائی زخمی نہ ہو۔نیزے کے پھل پر ہاتھ رکھنے میں یہ تعلیم ہے ورنہ اتفاقا ٹھوک لگتی ہے اور گرتے ہیں تو نیزہ کسی کو لگ جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں معاف کرنا میرا یہ ارادہ نہیں تھا، یہ تو میری نیت نہ تھی اس طرح ہو گیا۔تو آنحضور کی نصیحت پر عمل ہو تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ معاف کرنا میری غلطی سے یہ ہو گیا ہے۔جو غلطی سے ہوا آپ کو نقصان ہو گا۔آپ کے بھائی کو نہیں ہوگا۔بھائی آپ کی طرف لپکیں گے کہ او ہو آپ کو تکلیف پہنچی ہے ہم اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا اور یہ حدیث بھی ابوذر کی ہے اور مسلم سے لی گئی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا (یہ ایک کشفی نظارہ ہے جس کا بیان ہے ) جو جنت میں پھر رہا تھا۔اس نے صرف یہ نیکی کی تھی کہ ایک کانٹے دار درخت کو جس سے راہ گزرنے والے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی تھی رستے سے کاٹ دیا تھا۔ایک اور روایت ہے کہ ایک آدمی نے رستے میں ایک درخت کی لٹکی ہوئی ٹہنی دیکھی جس سے مسلمانوں کو گزرتے وقت تکلیف ہوتی تھی۔اس نے کہا خدا کی قسم میں اس ٹہنی کو کاٹ کر پرے ہٹا دوں گا تا کہ مسلمانوں کو یہ تکلیف نہ دے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے فعل کی قدر کی اور اس کو بخش دیا (مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل از الته الاذى عن الطريق) یہاں یہ بات سمجھانے کے لائق ہے کہ بعض دفعہ جو چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں وہ بڑے بڑے اثرات دکھاتی ہیں۔ایک دفعہ ایک مریض میرے پاس تشریف لائے ان کی ایک آنکھ بینائی سے جاتی رہی تھی اور خطرہ تھا کہ دوسری آنکھ بھی نکالنی پڑے گی اور وہ رستہ چلتے کسی شاخ سے آنکھ ٹکرانے کے نتیجے میں یہ بیماری شروع ہوئی تھی۔کوئی تیز سا پتا تھا جو تیزی سے چلتے چلتے آنکھ میں لگا اور اس کو تراش گیا ہے اور جب ایک آنکھ ضائع ہو تو بعض دفعہ Sympethaticaly کہا جاتا ہے کہ گویا اس کی ہمدردی میں دوسری آنکھ بھی جواب دے جاتی ہے تو ایسا ہی کیس تھا۔پس ہے تو