خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد 13 405 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء ہوں اس آپس میں سوسائٹی میں محبت کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور اسی طرح اللہ کی نعمت یعنی محمد رسول اللہ دلوں کو باندھنے کا موجب بنتے ہیں۔پھر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا ایمان کی ایک نشانی انصار سے محبت رکھنا اور نفاق کی ایک علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔یہ حدیث بخاری کتاب الایمان سے لی گئی ہے۔یہ تو سب کو علم ہے کہ انصار تھے۔یعنی آنحضرت ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ کے وہ باشندے جنہوں نے مہاجر بھائیوں کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور اللہ کی خاطر ، بعضوں نے گھر بانٹ لئے ، بعضوں نے جائیداد میں تقسیم کر دیں۔مگر خدا کی خاطر اپنے لئے ہوئے بھائیوں کی مدد کی۔یہ انصار ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی ایک لطیف تشریح فرمائی ہے کہ اس سے مراد ہر زمانے میں دین کی خدمت کرنے والے ہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 381)۔پس آج بھی مثلاً جماعت جرمنی میں جو کثرت سے دین کی خدمت کرنے والے پیدا ہورہے ہیں۔ان سے بغض رکھنا آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کو پسند نہیں ہے۔اللہ اس سے پیار کرتا ہے جو انصار سے پیار کرتا ہے۔پس اس طرح اگر اس انصار کی تعریف کو وسیع کر دیا جائے تو ہر خدمت دین کرنے والا اپنے اردگر محبوں کی ایک جماعت پیدا کرتا چلا جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیکی کی قدر ہوگی اور نیکی کو اہمیت ملے گی اور نیکی کے نتیجے میں لوگ محبوب ہوا کریں گے۔چونکہ اب وقت ختم ہو چکا ہے اور بھی دوسرے پروگرام ہیں اس لئے مجھے افسوس ہے کہ اس مضمون کو میں آج اس خطبہ میں ختم نہیں کر سکا۔انشاء اللہ باقی باتیں آئندہ خطبے میں آپ سے ہوں گی میں صرف ایک نصیحت کے بعد آپ سے اجازت چاہوں گا کہ اس وقت جو خصوصیت کے ساتھ نصرت کے محتاج ہیں، فی سبیل اللہ جن کی خدمت کرنا آج جماعت جرمنی پر اور یورپ پر خصوصیت سے فرض ہے وہ اپنے بوسنین بھائیوں کی خدمت ہے۔یہ محض اللہ ستائے گئے ہیں ان کا اور کوئی قصور نہیں تھا سوائے اس کے کہ یہ اسلام سے وابستہ تھے اور جن طاقتوں نے بھی یہ فیصلہ کیا بہت بڑا ظلم کیا کہ یورپ کے دل میں یہ ہم ایک اسلامی حکومت نہیں بننے دیں گے۔اگر چہ ان کو خود اسلام کا علم نہیں تھا مگر مارے اسلام کے نام پر گئے ہیں۔کاٹے