خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 395
خطبات طاہر جلد 13 395 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء باتیں امت کو سکھا رہے ہیں۔فرماتے ہیں مجھ سے اخلاق سیکھو، مجھ سے تعلق باندھا ہے، میں حبل اللہ ہوں تم نے اللہ سے تعلق باندھنا ہے تو میرے وسیلے سے باندھو گے اور یہ انداز ہیں وہ تعلق باندھنے کے کہ جیسے میں کرتا ہوں ویسا ہی تم کرو۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی جگہ جانے پر کسی کو اشارہ یا کنایہ یا لفظا اپنے مقام سے نہیں اٹھایا۔یہاں یہ بات سمجھانی بھی ضروری ہے بعض دفعہ لوگ منہ سے نہیں کہتے مگر انداز بتا رہا ہوتا ہے کہ جگہ خالی کرو۔وہ دیکھتے اس طرح ہیں کہ اور تمہیں کیا چاہئے میں آ گیا ہوں۔اٹھو اور اپنی جگہیں پیش کر دو۔چاہے یہ زبان سے کہا جائے یا عمل سے کیا جائے یہ دونوں چیزیں اس بلند اخلاق سے گری ہوئی ہیں جس پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺہ فائز تھے مگر اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اگر کوئی اپنی جگہ خالی کرے تو وہاں نہ بیٹھو یہ درست نہیں ہے اور یہ حصہ اثر ہے یعنی صحابی کی بات ہے ، آنحضرت ﷺ کا طریق نہیں تھا، ابن عمر کا طریق لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی آپ کو جگہ دینے کے لئے اٹھتا تو آپ کہتے تھے نہیں میں نہیں بیٹھوں گا وہاں۔آنحضرت ﷺ کا طریق کیا تھا۔حضرت وائلہ بن خطاب سے روایت ہے کہ آنحضرت معہ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا۔حضور اللہ اسے جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔کیسے بلند اخلاق ہیں جہاں آنے والوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ تم نے اٹھانا نہیں ہے۔وہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر بیٹھا رہنے والا تن کر بیٹھا رہے کہ آنے والے کو نصیحت ہے کہ نہیں اٹھانا تو ہم کیوں اٹھیں اپنی جگہ سے۔محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون معزز ہوسکتا تھا ، ہوسکتا ہے یا ہو سکے گا۔ایک ہی ہیں جو کائنات میں سب سے معزز تھے اور ہمیشہ معزز رہیں گے۔آپ کا دستور یہ تھا کہ مسجد میں تشریف فرما ہیں۔آنے والا آیا ہے تو اپنی جگہ سے کچھ سرک گئے تا کہ اس کے لئے جگہ بن جائے۔وہ شخص کہنے لگا حضور! جگہ بہت ہے آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا ایک مسلمان کا حق ہے کہ اس کے لئے اس کا بھائی سمٹ کر بیٹھے اور اسے جگہ دے۔(بہیقی فی شعب الایمان - مشکوۃ باب القیام ) پس آنے والے کو اور نصیحت ہے، بیٹھنے والے کو اور نصیحت ہے اور دونوں طرف Cushoning ہے۔اگر کسی ایک سے بھی اخلاقی غلطی ہو تب بھی ٹھو کر نہیں لگے گی۔دونوں