خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد 13 394 خطبه جمعه فرموده 27 رمئی 1994 ء بھی نہیں کرتا۔اس سے بڑا اس کے فائدے کا آدمی نظر آ جائے تو اسے جھک کر بھی سلام کرے گا۔اس کے سوا ہر آیا گیا اس کے لئے اجنبی ہے اور بے معنی ہے۔پس جس شخص کو آپ نصیحت فرمار ہے ہیں اس کی بنیادی کمزوری کو پیش نظر رکھا ہے اور فرمایا کہ تم کھانا کھلانے میں کمزور ہو یہ کہا تو نہیں مگر مراد یہی تھی تم کھانا کھلایا کرو یہ بہت اچھا کام ہے اور اسی طرح سلام میں نہ صرف پہل کرو بلکہ ہر ایک کو سلام کیا کرو۔آنحضور ﷺ سے روایت ہے یہ بھی بخاری سے لی گئی ہے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اس غرض سے نہ اٹھائے کہ تا وہ خود اس جگہ بیٹھے۔وسعت قلبی سے کام لو اور کھل کر بیٹھو۔چنانچہ ابن عمر کا طریق یہی تھا کہ جب کوئی آدمی آپ کو جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔( بخاری کتاب الاستیذان: 5799) اس حدیث کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ حدیث کہلاتا ہے دوسرا حصہ اثر ہے۔پہلے حصے میں آنحضرت ﷺ کی نصیحت ہے دوسرے میں صحابی نے جو نصیحت سنی اس سے اپنے لئے جو اس نے کردار چن لیا اور جو طریق اختیار کر لیا اس کا ذکر ہے۔پہلا واجب التعمیل ہے۔ہمارا فرض ہے کہ من و عن اس پر عمل کریں۔دوسرا واجب التعمیل نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس صحابی نے غلط سمجھا ہو اور اس کے بعد جو میں حدیث آپ کے سامنے رکھوں گا اس سے پتا چلتا ہے کہ اس صحابی نے اس حدیث کا مفہوم صحیح نہیں سمجھا۔یعنی احتیاط میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی آگے بڑھ گئے۔لیکن آنحضرت ﷺے جنہوں نے نصیحت فرمائی آپ اس نصیحت کا مضمون سب سے بہتر سمجھتے ہیں اسی لئے میں نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اس کے ساتھ ایک دوسری حدیث بھی رکھ دی ہے۔پہلی حدیث کا بھی جو پہلا حصہ ہے یعنی جس کو میں حدیث کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ جب آپ کسی جگہ جاتے ہیں تو کسی کو یہ نہ کہیں کہ تم اٹھ جاؤ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔مرتبے میں چھوٹا ہو یا بڑا ہو یا عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا ہو کسی کو یہ کہہ کر جگہ خالی کروانا کہ میں آیا ہوں تھوڑی سی جگہ خالی کر دو۔یہ بدخلقی ہے اور آنحضرت میلہ اخلاق کے جس بلند ترین مقام پر فائز تھے آپ اسی مقام کی