خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد 13 337 خطبه جمعه فرموده 6 مئی 1994ء صلى الله عروسه بوسنین میں غیر احمدیوں میں بڑھائیں وہاں دوسری قوموں میں بھی مواخات جاری کریں اور وہاں احمدیوں میں خصوصیت کے ساتھ کیونکہ وہاں غیر مظلوم نہیں ہے۔ احمدی سے اس لئے مواخات ضروری ہے کہ وہ مہاجر ہے اپنے معاشرے کو چھوڑ کر بے معاشرہ ہو گیا ہے، ایک جگہ سے جڑا کھڑی ہے اور دوسری جگہ جڑ پکڑنے کے لئے وہ ایک Soil کی ، ایک زرخیز زمین کی تلاش میں ہے اور اس نے آپ کو وہ زمین سمجھا ہے۔ پس اس پہلو سے ریس ازم کا مقابلہ کرنا ہو یا احمدیت کو ویسے تقویت دینی ہو ہر پہلو سے نہایت ہی ضروری ہے کہ نئے آنے والوں سے مواخات کریں اور ان میں رنگ ونسل کی تمیز نہ ہو۔ افریقن بھی ان میں سے اسی طرح مواخات سے فیض یافتہ ہوں جس طرح جرمن قوم آپ کی مواخات سے فیض یافتہ ہو جس طرح مشرقی یورپ کے آنے والے البانین یا دوسری قوموں کے باشندے آپ کی مواخات سے فیض اٹھانے والے ہوں۔ اس مؤاخات کے دائرے کو بڑھانا شروع کریں لیکن یاد رکھیں کہ مواخات کے دائرے کو آج کل کے زمانے میں بعینہ اسی طرح نافذ نہیں کیا جا سکتا جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں مہاجرین کے ساتھ مواخات کی گئی تھی اس لئے مہاجرین کے ساتھ مواخات کا تصور سامنے رکھتے ہوئے بعض لوگ یا تو مواخات اپنے لئے ناممکن سمجھتے ہیں یا پھر حد سے زیادہ قربانی کرتے ہیں جو موقع اور محل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ یہاں حالات مختلف ہیں، یہ قو میں ایسی ہیں اور آج کی تہذیب ایسی ہے کہ یہاں بھائی بھی بھائی کا نہیں بن کے رہتا۔ بیٹا ماں کا نہیں ، باپ بیٹی کا نہیں ایک گھر میں جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے الگ ہوتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ کھانے کے بعد باپ اپنی اولا د کو بل بھی پیش کرتے ہیں کہ اس مہینے کا خرچ ہوا ہے تو تم دو اپنی کمائی سے۔ تو یہاں، جہاں انسانیت کا معیار بگڑا ہے وہاں مواخات نسبتا آسان ہوگئی ہے کیونکہ تھوڑی سی نیکی بھی مواخات کا رنگ اختیار کر جائے گی ۔ ان کے ساتھ ایسا سلوک کہ غیر ہوتے ہوئے اپنائیت کا سلوک ہو، ضروری نہیں کہ اس سلوک میں آپ گھر آدھا بانٹ دیں اور جائیداد تقسیم کر دیں اور اپنی آمد میں خواہ آپ کا اپنا بھی گزارہ نہ چلے آپ ان کو حصے تقسیم کریں ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔ موقع اور محل کے مطابق یہاں مواخات کا وہی تصور ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ وہ سوسائٹیاں جو آپس میں پھٹ چکی ہیں یا انسانی قدروں کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ رشتے جو انسان کو انسان کے ساتھ باندھتے ہیں وہ یا