خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد 13 336 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء آپ کو مدینے والوں کی نسل میں سے کہتے ہیں۔کہتے ہیں ہم وہی لوگ ہیں جو مدینے سے تعلق رکھتے تھے جن کو انصار کا لقب دیا گیا تھا بہر حال یہ بھی ایک جوابی کارروائی ہے اپنی برتری کی۔برتری تو اخلاق سے ہے، برتری تقویٰ سے ہے اس بات سے نہیں ہے کہ آپ مدینے والوں کی اولاد ہیں یا سکے والوں کی اولاد ہیں، اس بات میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے خلف کہلانے کے مستحق ہیں کہ نہیں محمد رسول اللہ کی اولاد ہیں کہ نہیں۔پس یہ وہ ایک گر ہے جسے خوب سمجھ لینا چاہئے۔جہاں تک بوسنین کا تعلق ہے ہمارا ان سے اس وقت جو محبت کا رشتہ ہے وہ ان کی مظلومیت کے نتیجے میں طبعی طور پر پیدا ہوا ہے اور ہم سچے دل سے بھائیوں کی طرح ان کو اپناتے ہیں، ان سے پیار کرتے ہیں اور اس میں احمدی غیر احمدی کا کوئی فرق نہیں ہے۔اس لئے جب میں نے مواخات کا اعلان کیا تھا تو ہر گز یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ احمدیوں سے صرف مؤاخات کرو اور اس کے نمونے کے طور پر میں نے جس خاندان سے مواخات کی وہ غیر احمدی ہے ابھی تک غیر احمدی ہے، اور مواخات کے نتیجے میں ان کو احمدی بنانے کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔لٹریچر دلاتا ہوں، ان کو ہر موقع پر سمجھاتا ہوں ، دل ان کے احمدیت کے ساتھ ہیں اور احمدیت کا پیار بڑھ رہا ہے لیکن مؤاخات احمدیت سے قطع نظر تھی اور اسی طرح رہنا چاہئے کیونکہ مظلوم قوم اور مسلمان قوم ہے یہاں مکے کی ہجرت کی ساری باتیں پوری طرح صادق نہیں آتیں۔وہاں سے جو بھی نکلا ہے مظلوم نکلا ہے اور مظلوموں کے ساتھ مواخات ہونی چاہئے۔پس اپنے مواخات کے تعلقات میں جتنے بوسنین بھی آپ کے قرب وجوار میں رہتے ہیں آپ ان کو سنبھال سکتے ہیں۔ان سب سے مواخات کے لئے آپ کو محبت کا ہاتھ بڑھانا چاہئے۔بعض جگہ احمدیوں نے یہ غلطیاں کی ہیں کہ محبت کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے تبلیغ شروع کی ہے اور یہ دستور کے خلاف ہے یہ عقل کے خلاف ہے حکمت کے خلاف ہے۔تبلیغ تو ہوتی رہے گی سب دنیا میں ہم نے تبلیغ کرنی ہے۔بوسنین کو اس لئے نہیں کرنی اب یہ گرا پڑا ہے تو اس کو سنبھا لواٹھا لو آسانی سے قابو آ جائے گا یہ نا جائز طریق ہے، درست نہیں ہے، اعلیٰ اخلاق کے خلاف ہے۔بوسنین کی ضرورت اس لئے پوری کرنی ہے کہ وہ مسلمان، مجروح ، زخمی ، بے یارو مددگار ہے اور ایسا مظلوم ہے کہ اس آج کی تاریخ میں، جو ہمارے قریب کے زمانے کی تاریخ ہے ایسی مظلومیت کسی اور قوم میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔پس اس پہلو سے ان سے محبت کا سلوک رکھیں لیکن مواخات کو جہاں