خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد 13 335 خطبہ جمعہ فرمود و 6 مئی 1994ء اختیار پیار، بے اختیار نہی، یہ چہروں سے کھلنے لگتی ہے اور Racist جب کسی دوسرے سے ملتا ہے تو اس کے چہرے پر یہ تناؤ ضرور موجود ہوتا ہے۔آپ لطیفہ بھی اس کو سنا ئیں وہ ہنس بھی پڑے تو اس میں بھی تناؤ رہے گا۔آپ اچھی بات بھی کریں اور وہ قبول بھی کر لے پھر بھی تناؤ رہے گا اور ذراسی غلطی آپ سے ہو تو وہ تناؤ تیوری میں بدل جائے گا، غصے میں تبدیل ہو جائے گا اور وہ بڑی سخت ناقدانہ نظروں سے آپ کو دیکھے گا اور کڑی زبان سے آپ پر تبصرہ کرے گا۔پس اس پہلو سے چہروں کے آثار سمجھا کریں۔جہاں بھی آپ کو ریس ازم دکھائی دے گا یہ ایسی چیز نہیں ہے جو چھپ سکے۔نہ محبت چھپ سکتی ہے نہ نفرت چھپ سکتی ہے یہ دونوں ایسی بے اختیار کیفیتیں ہیں جن کو وقتی طور پر کوئی بڑی قابلیت سے دھوکہ دینے کی خاطر چھپالے تو ہمیشہ نہیں چھپ سکتیں کچھ دیر کے بعد ضرور سر اٹھا ئیں گی ضرور دکھائی دیں گی۔پس مجلس شوری میں اس بات پر غور کریں کہ کہاں کہاں ایسے بد آثار دکھائی دیتے ہیں یا یہ نہیں کہنا چاہئے تفصیل سے، یہ میں کہوں گا اس بات پر غور کریں کہ ہمیں کن اعلی اخلاق سے پہلے سے بڑھ کر متصف ہونا چاہئے کن خدمتوں میں آگے سے زیادہ بڑھنا چاہئے۔مواخات کے اور کون سے ذرائع اختیار کرنا چاہئیں کہ جس کے نتیجے میں جماعت احمدیہ کے اندر ریس ازم کے داخل ہونے کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔ہر دروازہ بند اور مقفل کر دیا جائے۔اس پہلو سے مواخات کے ضمن میں میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ بوسنین کے ساتھ مؤاخات کر رہے ہیں یعنی جرمنی احمدی اور اللہ کے فضل سے اس کے بڑے اچھے نتائج ظاہر ہورہے ہیں مگر بوسنین کا جہاں تک تعلق ہے وہاں ریس ازم کا خطرہ نہیں وہاں مواخات کسی خطرے کو ٹالنے کے لئے نہیں بلکہ انصار مدینہ کی سنت میں ہے جنہوں نے مہاجروں سے مواخات کی تھی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا کہ اس مؤاخات میں بھی ایک ضمنی فائدہ یہ ہوا کہ رئیس ازم مٹ گیا اور نہ اس سے پہلے اہل مکہ اپنے آپ کو افضل سمجھا کرتے تھے مہاجر اس قوم سے تعلق رکھتے تھے جو قریش تھے اور مدینے والوں کو وہ آرائیں کہا کرتے تھے جیسے زمیندار کہتے ہیں یہ سبزی لگانے والے، سبزی کاشت کرنے والے لوگ ہیں اور اس جہالت کے نتیجے میں ان زمینداروں نے اپنی ساری عظمتیں کھو دیں۔آرائیں پھر ان کی قوموں پر مسلط ہوئے ان کی دولتوں پر قابض ہوئے ، ان کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا تو یہ محض جہالت کی باتیں ہیں اس زمانے میں بھی یہ باتیں کچھ نہ کچھ پائی جاتی تھیں۔اسی لئے آج تک ارائیں اپنے