خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد 13 26 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994ء بھی تو چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے پیار پیدا کرنے کے ذریعے تلاش کریں اور اس میں ایک ذریعہ یہ ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو محبت عطا فرمائے۔آنکھیں کھول کر روز مرہ یہ محسوس کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کیوں کسی سے محبت کرتے ہیں اس مضمون پر غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی محبت کے تمام محرکات آپ کو اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے دکھائی دیں گے۔آپ ان محرکات میں گھرے ہوئے ہیں صرف آنکھیں نہیں کھولتے۔انسان کسی سے کیوں محبت کرتا ہے؟ ماں نے پیدا کیا ہے اور نو مہینے پالا ہے اور اپنی صفات میں سے کچھ بخشی ہیں اس کے نتیجے میں طبعا ایک بچے کو ماں سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔خالق وہ ہے جس نے ارب ہا ارب سال سے انسان کی پیدائش کی تیاری کی ہے اور ہر لمحے جو کائنات ارتقاء کی طرف مائل تھی اس کا ہر لمحے ہر قدم انسان کی طرف اٹھ رہا تھا کیونکہ بالآخر انسان پیدا کرنا مقصود تھا اور جو تغیرات اس عرصے میں ہوئے ہیں تمام تر انسان کی پیدائش کی خاطر ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے قرآن کریم کی آخری سورتوں کی تفسیر میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ کوئی بھی کائنات میں ایسی تاثیر نہیں ہے جس سے انسان کو حصہ نہ دیا گیا ہو گویا کہ یہ ایک مختصر کا ئنات ہے اور اس کی تیاری کے سلسلے میں اگر آپ کا ئنات کے ارتقاء پر نظر دوڑائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ناممکن ہے کہ اس مضمون کا کوئی احاطہ کر سکے۔اس مضمون میں جتنا بھی سفر کریں، جتنی بھی سیر کریں آپ کی زندگی گزر جائے ، آپ کی نسلوں کی گزر جائے ، قیامت تک یہ کرتے چلے جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ کی اس شان کا جو تخلیق کا ئنات میں مضمر ہے احاطہ نہیں ہوسکتا اور جو محض اس لئے خدا تعالیٰ نے ان مخلوقات کو عطا فرمائی۔ان کے ہر ذرے میں رکھی کہ بالآخر اس سے انسان پیدا ہوگا اور انسان کیسا پیدا ہوا جو خدا کو بھلا بیٹھا، تکبر کی باتیں کرنے لگا۔پس اگر آپ ذکر سے محروم ہیں تو بہت ہی بڑا نقصان کا سودا ہے۔پس اپنے گردو پیش دیکھیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک ایک بات پر غور کریں کہ آپ کو کسی سے کیوں تعلق ہے۔حسن سے تعلق ہے اور حسن کا سر چشمہ اللہ ہے۔ہر چیز جو حسین دکھائی دیتی ہے اس میں خدا کا چہرہ دکھائی دیتا ہے اگر دیکھنے والی آنکھ ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا (درین صفحہ: 10)