خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد 13 25 خطبہ جمعہ فرموده 14 / جنوری 1994ء اکٹھے ہو جاتے ہیں تو حقیقت میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ پیغام ہے کہ تم گدھے ہو جو ایسی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے ہو جہاں خدا کا ذکر نہیں کیونکہ گدھے کی لاش پر اکٹھے ہونے والے گدھے ہی ہو سکتے ہیں۔پس کیسی بے وقوفی کا عالم ہے کہ تم بیٹھے ایسی باتیں کرتے ہو جن کا کوئی مقصد نہیں۔کوئی ان کا فائدہ نہیں ہے۔کسی سے نقصان کو بچانے کا کوئی قصہ نہیں۔خالصہ حماقت سے اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔مجلسوں میں لطف بھی اٹھانا ہوتو ذکر الہی سے لطف اٹھایا جاسکتا ہے اور بعض دفعہ ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے کسی اور لطف میں وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ (الزمر:24) قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان کو جھر جھری آجاتی ہے۔ذکر سے اس قدر لذت پیدا ہوتی ہے کہ سارا بدن کانپ اٹھتا ہے اس لئے یہ خیال کہ ذکر کوئی بوریت کا دوسرا نام ہے بالکل بے ہودہ خیال ہے، جہالت کی بات ہے۔ذکر میں لطف ہے کیونکہ ذکر کا مضمون محبت سے تعلق رکھتا ہے اور محبت اگر کسی سے ہو جائے تو وہ محبوب چاہے کیسا ہی برا کیوں نہ ہو دنیا کی نظر میں انسان کو اس کے ذکر میں بڑا لطف آ رہا ہوتا ہے کیونکہ انسان کو اپنا محبوب ضرور حسین معلوم ہوتا ہے اور دنیا کی نظر میں خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہوا اپنے محبوب کے ذکر سے ایک انسان لطف اٹھاتا ہے۔ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اس مضمون کو ثابت کرنے کے لئے کہ کس طرح ہر انسان اپنے تعلق سے کسی کو حسین پاتا ہے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا اور ان کے سامنے ایک جشن کو بلایا جس کا بیٹا بہت ہی سیاہ اور بہت بدصورت بھی تھا اور بھی لوگوں کے بچے وہاں اکٹھے ہوئے تھے۔بادشاہ نے اس حبشن کو بلایا اور کہا کہ یہ قیمتی ہار ہے تم غور سے دیکھو جو سب سے زیادہ پیارا بچہ ہے اس کی گردن میں ڈال دو۔اس نے چاروں طرف دیکھ کر جائزہ لیا اور اپنے بچے کی طرف بڑھی اور اس کی گردن میں ڈال دیا۔جھوٹ نہیں بولا تھا، بادشاہ کی تمکنت کے سامنے اس کو جرات بھی نہیں ہو سکتی تھی۔بادشاہ کی ہیبت تھی لیکن دل کی گواہی تھی۔سب سے زیادہ پیارا بچہ اسے اپنا بچہ دکھائی دیا۔محبت اور ذکر کا ایک گہرا تعلق ہے اس کے بغیر ذکر ہو نہیں سکتا۔پس اگر محبت سے ذکر کیا جائے تو یہ مکن ہی نہیں کہ وہ ذکر لطف سے خالی ہواور اللہ تعالیٰ کا ذکر تو سب ذکروں سے زیادہ حسین ہے، سب سے زیادہ دلکش ہے۔پس ذکر کے مضمون کو فرض کے طور پر ادا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ہو بھی نہیں سکے گا۔فرض کے طور پر کبھی محبتیں ادا نہیں کی جاتیں اس کے لئے دل میں محبت پیدا کرنی ہوگی۔پس ذکر سے پہلے ذکر کی تیاری