خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد 13 27 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994ء کہ ہر وہ آنکھ جس میں حسن کی مستی ہے وہ ہمیں تو تجھے ہی دکھا رہی ہے اور آنکھ کا دکھانا کتنا خوبصورت مضمون ہے جس آنکھ کو آپ دیکھ رہے ہیں اگر آپ میں بصیرت ہو تو اس آنکھ سے کسی اور کو دیکھیں گے وہ خدا کی ذات ہے۔ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا گیسو کا ہاتھ یوں معلوم ہوتا ہے اشارے کر رہا ہے۔اس کا آخری کو نہ اس طرح اٹھا ہوا ہوتا ہے جیسے انگلی اشارہ کر رہی ہو۔تو فرمایا تیری ہی طرف ہر بل کھائے ہوئے خوب صورت گیسو کا ہاتھ ہے۔اس میں ہمیں تو ہی دکھائی دیتا ہے۔اگر محبت ہو تو محبت کے نتیجے میں ہر چیز اسی محبوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے اور اگر محبت نہ ہو تو اشارے سمجھنے کی عقل تو پیدا کریں۔اشارے سمجھنے کی کوشش تو کریں وہ آنکھ تو لیں جس سے یہ اشارے سمجھے جائیں گے۔پس خدا تعالیٰ کی محبت کو دل میں پیدا کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم اپنے ماحول، اپنے گردو پیش پر اس پہلو سے نظر ڈالیں کہ ہم کیوں کسی سے محبت کرتے ہیں اور اس محبت کے محرکات خدا کے تعلق میں موجود ہیں کہ نہیں۔کوئی ایک پہلو ایسا نہیں ہے جو محبت پیدا کرنے والا ہو اور اللہ کی ذات میں موجود نہ ہو۔ہر لذت خدا کی ذات میں ہے بعض لوگ یہ سوچتے ہیں اور اس سوچ سے ڈرتے ہیں کہ شہوانی لذات بھی تو لذات ہیں وہ تو اللہ میں نہیں ہیں لیکن شہوانی لذات کی حقیقت یہ ہے کہ محبت کے نتیجے میں وہ چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن سے شہوانی لذت پیدا ہوتی ہے اصل محرک شہوانی لذت نہیں تھا آغاز میں اصل محرک جس سے انسان نے نشو و نما پا کر وہ اعضاء حاصل کئے جس سے شہوانی لذت حاصل کی جاتی ہے وہ اپنے نفس کی محبت تھی اس محبت نے انسان کو باقی رہنے کی تمنادی اور بقا کی تمنا پوری کرنے کے لئے جو ذرائع میسر آئے ان میں اسی نسبت سے مزہ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔یہ ایک بہت لمبا فلسفہ ہے جس کی تفصیلی بحث میں میں نہیں جا سکتا لیکن اشارۃ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ کوئی دنیا کی لذت نہیں ہے جو آپ کو اپنے مضمرات کے لحاظ سے خواہ بھیا نک ہی کیوں نہ دکھائی دے جس کا اصل، جس کی کنہ، پاکیزہ محبت نہ ہو اور محبت ہی سے ساری کائنات کا سلسلہ ہے اسی سے سب نشو ونما ہے اسی سے ارتقاء جاری ہے کوئی ایک بھی پہلو ارتقاء کا ایسا نہیں ہے جسے بالآ خر آپ محبت میں جا کر مرکوز نہ کر سکیں۔میں نے اس پہلو سے ایک دفعہ بہت غور کیا اور بچپن سے مجھے یہ شوق تھا کہ اس