خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد 13 295 خطبہ جمعہ فرمود : 22 اپریل 1994ء ایسا نا پسند نہ فرماتا۔پس Racism میں جو لوگ ملوث ہوتے ہیں دراصل وہ احساس کمتری کے نتیجے میں ملوث ہوتے ہیں۔اب یورپ میں خصوصا جرمنی میں جو Natsi تحریک چلی ہے جس میں یہودیوں کو نفرت کا نشانہ بنایا گیا آپ یہودیوں کو جو چاہیں کہیں لیکن جرمن قوم نے یہودیوں کو دیکھا کہ دیکھتے دیکھتے وہ ان کی اقتصادیات پر قابض ہو گئیں، ان کے اندر بعض ایسی صلاحیتیں تھیں جن کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، پس اس سے جو تکلیف پہنچی ہے، اس سے ان کے دلوں میں جو احساس اذیت پیدا ہوا ہے اس کی بنیاد اپنے آپ کو کم تر سمجھنے میں تھی۔اگر وہ اپنے آپ کو برابر سمجھتے تو مقابلہ کرتے اور جب اکثریت میں تھے تو اقلیت کے ساتھ قانون کے اندر رہتے ہوئے مقابلہ کیوں ممکن نہیں ہے۔پس یہ احساس تھا کہ ہم یہ نہیں کر سکتے جو یہ کر رہے ہیں اور کوئی وجہ ایسی ہے کہ یہ ہم پر غالب آرہے ہیں، اس کا ردعمل پیدا ہوا ہے۔جو حو صلے والے لوگ ہوتے ہیں، جن کے دل بڑے ہوں وہ کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں میں حسد نہیں کیا کرتے۔اگر کوئی آپ میں سے آگے نکل گیا ہے تو یہ دیکھیں گے کہ کس طرح آگے نکلا، کیوں نکلا ؟ ہاں اگر اس نے کوئی غلط طریق اختیار کیا ہے تو اس غلط طریق کو مٹانے کے لئے کوشش کرنا یہ احساس کمتری نہیں۔لیکن ایسے شخص کا ویسے ہی دشمن ہو جانا اور یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم سے آگے نکل گیا ہے، اس سے حسد کے جذبات میں جلتے رہنا، یہ ساری باتیں Racism کی بنیاد ہیں اور اس سے بھی ہمیں نجات کی دعا مانگنی چاہئے۔پس جماعت احمدیہ کے رخ دونوں طرف کے لوگوں کی طرف کھلے ہیں۔جماعت احمدیہ کی آنکھیں ایک طرف ان کو بھی دیکھ رہی ہیں جو اپنی غلطی سے احمدیوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ اپنے آپ کو گویا معزز بنا بیٹھے ہیں، ہم پر تکبر کر رہے ہیں، اور ایک رخ ان کی لوگوں کی طرف ہے جو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے ہمیں نیچا دیکھ رہے ہیں اور تکبر کی راہ ہمارے متعلق اختیار کئے ہوئے ہیں تو مشرق میں جائیں یا مغرب میں جائیں، جتنی بھی کج ادائیں ہیں انہیں ہم نے ٹھیک کرنا ہے اور کج ادائی کوٹھیک کرنے کے لئے اپنی اداؤں کو درست کرنا ضروری ہے۔پس میں یہ پیغام نہیں دیتا کہ ان کے خلاف ایک مہم چلائیں، ایک موومنٹ بنائیں، جس طرح آج کل مادی قوموں کا کام ہے اور بڑی بے وقوفی ہے جو وہ ایسا کرتے ہیں۔ہمیں تو قرآن کریم نے ہمارے ہاتھوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ہتھیار تھمائے ہیں اور خود درست ہونے کی تعلیم دی ہے۔