خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد 13 296 خطبہ جمعہ فرموده 22 اپریل 1994ء یہ دو باتیں اگر جماعت اپنالے، آپس کی محبت کے ساتھ اپنے اخلاق کو درست کرے اور جن قوموں سے تعلق ہے ان قوموں کے حوالے سے، ان کی بیماریاں دور کرنے کے لئے ، ان شعبوں میں جہاں وہ بیمار ہیں، اپنے آپ کو بہت ہی صحت مند بنائیں۔اگر احساس کمتری کا مقابلہ ہے تو آپ ان کے سامنے بچھیں۔جس طرح بھی ہو احساس کمتری کے بت کو توڑیں۔اگر کوئی بڑا بنتا ہے تو اس کے سامنے سراٹھانے سے بات نہیں بنے گی، یہ عجیب بات ہے کہ وہاں بھی علاج بچھنا ہی ہے لیکن ذلت کے ساتھ بچھنا نہیں وقار کے ساتھ۔عزت اور احترام ان معنوں میں کہ آپ اس سے ڈرے نہیں ہیں، بے خوف ہیں اور بے خوفی کی علامت یہ ہے کہ آپ نصیحت سے باز نہیں آتے۔اپنی اصلاح کرتے ہیں اور پھر قطع نظر اس کے کہ کوئی آپ کو کیا سمجھتا ہے، بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں۔یہ وہ ذریعہ اصلاح ہے جو جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ذریعہ اصلاح ناکام نہیں ہوا کرتا۔یہ قرآن کریم کا نسخہ ہے جو ہمیشہ خدا کی طرف سے قوموں کو عطا ہوا اور قوموں پر آزمایا گیا اور قرآن نے بھی اس پر بہت زور دیا اور حضرت محمد مصطفی میہ نے بھی بہت زور دے دے کر سمجھایا کہ یہ نسخہ استعمال کرو یہ کبھی نا کام نہیں ہوگا۔اب میں حضرت اقدس محمد مصطفی ہے کی بعض نصائح آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن کا اسی باہمی محبت کے مضمون سے تعلق ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور پھر بعد میں فرمایاوَ الْمُهَاجِرُ مَنْ هَاجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ اور مہاجر وہ ہے جو ان باتوں سے ہجرت کر جائے جن کو اللہ نے منع فرمایا ہے۔(بخاری کتاب الایمان، حدیث : 2262) یہ چند لفظوں کی نصیحت ہے مگر بہت ہی گہری ہے اور قوموں کی زندگی کے بنے سنور نے کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔پہلی بات تو مسلمان کی تعریف ہے اس سے بہتر تعریف جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، ہو نہیں سکتی۔ایک وہ تعریف ہے جس کا تعلق خدا سے ہے یعنی خدا کے حضور اپنے آپ کو بچھا دینا اور اس کی مرضی کے تابع ہو جانا۔اس حدیث میں دونوں باتوں کا ذکر ہے۔چند لفظوں میں، اگر آپ غور کر کے دیکھیں ، تو مسلمان کی ایسی جامع مانع تعریف فرما دی گئی ہے جس کا اطلاق جس پر ہو اس کو کوئی دائرہ اسلام سے خارج کر ہی نہیں سکتا۔جہاں تک دنیا کے دیکھنے کا تعلق ہے اگر کسی انسان سے کسی دوسرے کو کوئی شر نہ پہنچے اور اس