خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد 13 24 خطبه جمعه فرمودہ 14 جنوری 1994ء باتیں ذکر کے فقدان سے ہوتی ہیں اگر ذکر ہو تو اس میں مزاح کا موقع بھی موجود ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ ذکر کے وقت ناممکن ہے کہ انسان ہنس سکے۔اگر حضرت رسول اکرم سے ذکر سیکھا ہے تو آپ کی زندگی پر غور کر کے دیکھیں آپ اسی ذکر کی حالت میں ہنستے بھی تو تھے۔لطائف بھی چلتے تھے ، مگر ایک فرق تھا جو آپ کے لطائف اور باقی لطائف میں تھا۔آپ کا لطیفہ بھی کسی کو دکھ نہیں دیتا تھا، آپ کے لطیفے میں کوئی تحقیر کا پہلو نہیں تھا بلکہ محبت غالب رہتی تھی، پیار کے ساتھ ہنستے تھے اور پیار کے ساتھ ہنساتے تھے ، پس اس پہلو سے اگر آپ ذکر کے مضمون کو سمجھیں تو ذکر کسی ایسی حالت کا نام نہیں جس میں آپ روز مرہ زندگی کے مشاغل میں حصہ نہ لے سکیں جیسا کہ میں آگے جا کے بیان کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی کے مشاغل کے ساتھ ساتھ ذکر چلتا تھا۔اس کے لئے کوئی الگ بیٹھ کر ، ایک طرف ہو کر ، خدا کو یاد کرنے کے لئے وقت نکالنے کی ضرورت نہیں۔وہ زندگی کے ہر لمحے میں ساتھ ساتھ رہتا تھا اور یہی وہ ذکر کا طریق ہے جسے آج ہمیں اپنانا ہو گا اور سب دنیا کو سکھانا ہوگا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔صلى الله قال قال رسول الله له ما من قوم يقومون من مجلس لا يذكرون الله فيه الا قاموا عن مثل جيفة حمار وكان لهم حسرة۔(ابوداؤد کتاب الادب حدیث نمبر : 4214) ابو داؤد کتاب الادب سے یہ حدیث لی گئی ہے۔ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا جو کوئی قوم یا کوئی گروہ ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے تو گویا گدھے کی لاش پر بیٹھے ہیں ان پر حسرت ہے۔اب گدھے کی لاش پر بیٹھنے کا مضمون بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے۔بات یہ ہے کہ فی الحقیقت انسان، انسان ہی کی لاشوں پر بیٹھا کرتا ہے اور جانور، جانوروں کی لاشوں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔میں نے بارہا دیکھا ہے کہ اگر ایک گدھا مر جائے تو گدھے اس کو آ کے سونگھتے ہیں اس کے گرد چکر لگاتے ہیں اور ایک دفعہ گھوڑی کے بچے کو مرے ہوئے میں نے دیکھا کہ صرف اس کی ماں ہی نہیں دوسرے گھوڑے بھی قریب آتے تھے اور اس کو سونگھتے تھے اور چلے جاتے تھے۔اسی طرح جنگلوں میں اپنے ہم جنسوں کی لاشوں پر ہم جنس