خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد 13 23 23 جیتے ہیں ان کی ساری زندگی گھاٹے کی زندگی ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيْضُ لَهُ شَيْطَنَّا فَهُوَ لَهُ قَرِيْنَّ که جوشخص اللہ کے ذکر سے احتراز کرتا ہے اس کے لئے ہم ایک شیطان کو مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔اب زمانے کے حالات کو اس حدیث کی روشنی میں دوبارہ دیکھیں تو یہ مسئلہ سمجھ آتا ہے کہ حقیقت میں کوئی انسان خلا میں نہیں رہ سکتا۔جب اللہ کے ذکر سے دل خالی ہو تو اس دل پر ضرور شیطان قبضہ کرتا ہے اور شیطان اس وقت دنیا کا ساتھی بن جاتا ہے جب دنیا ذکر سے خالی ہو جاتی ہے۔تو ساری دنیا میں جو آفات اور مصائب پھیلے پڑے ہیں حقیقت میں یہ ذکر الہی کے فقدان کے نتیجے میں ہیں۔اگر ذکر الہی ہو تو شیطان کو وہاں قدم رکھنے کی مجال نہیں ہے، اجازت نہیں ہے۔پس ہر قسم کی آفات سے بچنے کے لئے ہمیں ذکر الہی کو زندہ کرنا ہے اور پہلے اپنی ذات میں ہمیں اس ذکر کو زندہ کرنا ہو گا ، اپنے دل کو ذکر سے معمور کرنا ہو گا پھر اس ذکر کو عام کرنا ہوگا کیونکہ ذکر کے لفظ میں اگر چه خاموش یاد بھی شامل ہے لیکن حقیقت میں اس میں آواز دے کر یاد کرنے کا مضمون زیادہ غالب ہے کیونکہ اس کے ذریعے دنیا کو نصیحت ہوتی ہے اس لئے ذکر کے معنی نصیحت کے بھی ہیں۔آباؤ اجداد کی اچھی باتیں فخر سے بیان کرنے کو بھی ذکر کہتے ہیں، دل میں خاموشی سے بھی اللہ کو یاد کرنے کو ذکر کہا جاتا ہے مگر زیادہ تر ذکر کے ساتھ اونچی آواز میں یاد کرنا سمجھا جاتا ہے اور یہ اس مضمون میں داخل ہے۔پس میں جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اکثر دل میں ذکر تو کرتے ہی ہوں گے کہ احمدی ذکر سے خالی نہیں ہیں مگر اپنی مجالس کو ذکر سے سجائیں۔اپنے گھروں میں، اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اور کھانوں کے اوقات میں مہمانوں کی آمد پر مجلسوں کے دوران کچھ وقت ضرور ذ کر کیا کریں کیونکہ ذکر کے نتیجے میں آپ کی مجالس کو تقدس حاصل ہوگا۔آپ کی مجالس اگر ذکر سے خالی ہوں گی تو کسی نہ کسی حد تک شیطان ان میں ضرور دخل دے گا۔پس ہماری عورتوں میں جتنی بھی چغلی کرنے کی عادت ہے، اکٹھی بیٹھیں تو کسی اور بہن کی برائیاں شروع ہو جاتی ہیں اور بعض علاقے ہیں وہاں مردوں کی بھی ایسی عادت ہے۔ان کی اس عادت پر یہی مضمون صادق آتا ہے کہ جہاں ذکر نہیں ہوگا وہاں شیطان مقرر کر دیا جائے گا وہ اپنے تذکرے چھیڑ دیتا ہے اور یہ ساری لغو