خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد 13 288 خطبہ جمعہ فرمود و 15 اپریل 1994ء آپ کو پریشانی لاحق ہونی چاہئے۔سوچتے رہنا چاہئے کہ اس ضمن میں ہم کیا طریق اختیار کریں کہ اپنے مقاصد کو توقع سے بھی بڑھ کر حاصل کر سکیں۔تو پھر جو باتیں آپ کے دل سے خود بخود پھوٹتی ہیں، انہی پر مشورے ہونے چاہئیں اور جب آپس میں ایک دوسرے کو مشورہ دیں گے تو پھر ایک پختہ ذہن کا مشورہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک کمال کے درجے کو پہنچا ہوا ذہن ہو گا یعنی اجتماعی ذہن جماعت کا۔وہ مشورے جب پہنچیں گے، وہ پھوٹیں گے، ان کی منظوری ہوگی پھر فیصلے بنیں گے۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ کا مضمون نہ بھولیں۔آج بھی اسی طرح جاری ہے، کل بھی اسی طرح جاری رہے گا۔تمام مجالس شوری کے فیصلے جن کو آپ سمجھتے ہیں، وہ مشورے ہیں۔فیصلہ اس وقت بنتے ہیں جب کہ امام وقت ان کو قبول کر لیتا ہے اور وہ فیصلے بنتے ہیں جس شکل میں وہ ان کو قبول کرتا ہے پھر تو کل علی اللہ کا مضمون ہے، پھر پرواہ نہ کریں پھر لا ز ما انہی فیصلوں میں برکت ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ مضامین بار بار دہرانے کے لائق ہیں کیونکہ جماعت کی زندگی سے اور جماعت کی بقا سے ان کا گہرا تعلق ہے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: مجلس شوری جور بوہ میں منعقد ہو رہی ہے ان کو تو السلام علیکم خاص طور پر کہنا تھا۔محبت بھرا پیغام دینا تھا۔مبارک باد دینی تھی اسیرانِ راہ مولیٰ کی آزادی کی۔ان ہواؤں کے رخ میں تبدیلی کی مبارک باد دینی تھی اور ہواؤں کی لہک میں جو خوشگوار اثرات ظاہر ہوئے ہیں ان کے اوپر مبارک باد دینی تھی اور ایک بات خاص طور پر یہ کہنے والی ہے کہ مشاورت امانت ہوا کرتی ہے اس کے وہی حصے باہر بیان ہونے چاہئیں جن کی اجازت ہو ورنہ آپس کے مشورے ایک امانت کا رنگ رکھتے ہیں اور خصوصیت سے جو تبلیغی منصوبے وغیرہ بنائے جاتے ہیں ان میں یہ امانت کا پہلو زیادہ غالب ہے۔تو اپنے مشوروں کو امانت کے ساتھ دیں اور امانت کے ساتھ ہی اپنے سینوں میں لے کر واپس جائیں۔اتنے ہی پہلو ظاہر فرما ئیں جن پہلوؤں کے متعلق مجلس شوری یا صدر مجلس کی ہدایات ہے کہ ان کو عام کریں ورنہ باقی جو آپس کی سوچیں ہیں ان میں غور و فکر ہونا چاہئے اور آپ پر خدا کی طرف سے عائد کردہ امانت آپ کے دل میں ہی محفوظ رہنی چاہئے۔بعض دفعہ بے تکلف اور غیر محتاط تبصرے نقصان پہنچا جاتے ہیں اور اس سے دشمن کو خواہ مخواہ شرارت کا موقع مل جاتا ہے۔یہ بات ایک میں