خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 287

خطبات طاہر جلد 13 287 خطبہ جمعہ فرمود : 15 اپریل 1994ء کے فیصلے کے خلاف فرماتے تھے تو ساری مجلس شوری اول تو اسی فیصلے پر بچھ جاتی تھی۔کوئی ایک مجلس شوری میں شامل نمائندہ بڑ بڑا تا ہوا باہر نہیں نکلتا تھا کہ ہمارے فیصلے کے خلاف فیصلہ کر دیا۔ایک بھی مثال اس کی مجھے یاد نہیں جو اس وقت ظاہر ہوئی ہو یا بعد میں جماعتوں میں جا کر کسی نے یہ بات کی ہو۔اس سے ایک اور بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ مجلس شوری کا نمائندہ چننے والے متقی لوگ تھے۔وہ اپنے میں سے اس کو چنتے تھے جو متقی ہوتے تھے اور ان کا یہ ردعمل بتارہا ہے کہ کیسے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔کسی ایک نے بھی یہ غلطی نہیں کی کہ باہر جا کر کوئی بات کی ہو کہ جی ہمارا فیصلہ یہ تھا اور فلاں ہو گیا بلکہ سارے باہر نکلتے ہوئے، ہنستے کھیلتے یہی باتیں کیا کرتے تھے اس دن رات تک یہی مضمون رہتا تھا کہ دیکھو ہم کیسے بے وقوف نکلے اور وہی ہونا چاہئے تھا جو خلیفہ وقت نے فیصلہ دیا تھا اور جو ہمیں سمجھایا ہمارے ذہن میں آیا ہی نہیں، واقعہ یہی چیز درست تھی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے کہ ہمیں ایسے عظیم الشان صالح نظام کا جزو بنایا ہے جہاں غلطی کے ہر امکان کو دور کرنے کے لئے درستی کرنے کا ایک طریق مقرر فرما رکھا ہے اور ان دونوں کے تعاون کے نتیجے میں ایک نہایت صحت مند، پاکیزہ نظام قائم ہوتا ہے۔پس مجلس شوریٰ میں ان باتوں کو ضرور ہمیشہ پیش نظر رکھیں آج بھی اور کل بھی۔اگر ان باتوں پر آپ عمل کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت ہمیشہ زندہ رہے گی اور مجلس شوری سے خلافت کو تقویت ملتی اور خلافت سے مجلس شوری کو صحت عطا ہوتی ہے۔پس ان دونوں باتوں کے نتیجے میں جماعت کی زندگی کی ہمیشہ ہمیش کے لئے ضمانت میسر آئے گی۔پس تقویٰ کے ساتھ مشورے دیا کریں۔محبتیں بڑھانے کے فیصلے کیا کریں اور جیسا کہ میں نے مثال دی ہے مشورہ سوچتے وقت ان باتوں کو سوچا کریں جو آپ کے دل سے از خود اخلاص کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ان میں میں نے ایک مثال دی ہے، جماعتوں کے اندر اگر کہیں تھی پائی جاتی ہے تو ان کی وجوہات پر غور کر کے اس رنگ میں اپنی شوریٰ میں پیش کریں کہ اس کے نتیجے میں تلخی لازما کم ہو، بڑھے نہیں۔اگر بڑھانے کے انداز میں مشورہ دے دیا تو آپ ذمہ دار ہوں گے اور ایسے مشورے کو پھر قبول بھی نہیں کرنا چاہئے لیکن اس کے علاوہ روزمرہ کی باتیں ہیں، تربیت کے نئے نئے تقاضے ہیں ، نئی نئی قو میں احمدیت میں اور اسلام میں داخل ہو رہی ہیں، پھر اصلاح وارشاد کے بہت بڑے اور وسیع تقاضے اور بڑی امیدیں آپ سے وابستہ کی گئی ہیں، تو یہ سارے امور وہ ہیں جن میں دن رات