خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد 13 278 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء محبت کی حفاظت کرنے کے لئے ہر دل کو محمد مصطفی محلے کے دل کی نقل کرنی ہوگی۔وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْب کے ذریعے قرآن کریم یہ نہیں کہہ رہا کہ نعوذ باللہ کوئی احتمال تھا۔فرماتا ہے کہ ایسا ہوا ہی نہیں، نہ ہونا تھا، کہ تو ایسا ہوتا لیکن طرز کلام یوں ہے جیسے ہم کہتے ہیں بفرض محال اگر تو ایسا ہوتا تو پھر تیری تمام تر دیگر اخلاقی خوبیوں اور تعلیمی خوبیوں کے با وجود یہ لوگ تجھے چھوڑ کے بھاگ جاتے۔اب وہ جو رحمتہ للعالمین تھا، جس کو خدا تعالیٰ نے آخری اور کامل تعلیم عطا فرمائی تھی اس تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی ، جانتے ہوئے کہ یہ سچا ہے پھر بھی لوگ۔ہٹ جاتے۔یہ خدا کا کلام ہے جس کی انسانی فطرت پر گہری نظر ہے۔پس دلوں کا ایک دوسرے کے لئے نرم رکھنا جماعت کی جمیعت کے لئے بے انتہا ضروری ہے اور وہ دل جو آپس میں بندھ جائیں، شوری ان کی شوری ہوتی ہے۔مشورے وہ ہوتے ہین جوان دلوں سے اٹھتے ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ، پیار کا تعلق رکھتے ہیں، سچی ہمدردی میں مشورے دیتے ہیں اور یہی وہ بنیادی جماعت احمدیہ کی شوریٰ کی صفات ہیں جن کی وجہ سے ساری دنیا میں نظر دوڑا کے دیکھیں ،مجلس شوریٰ جماعت احمدیہ کی کوئی مثال آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔بڑی سے بڑی مہذب قوموں میں بھی، خواه اخلاقی ضوابط کتنے ہی عمدہ اور کیسے ہی بار بار سمجھائے جاچکے ہوں لیکن ان سلجھے ہوئے ضوابط کے با وجود چونکہ دل نہیں ملے ہوتے اس لئے ان کی مجالس جو مشورے کے لئے بلائی جاتی ہیں ان میں تلخیاں ، بد دیانتیاں ایک دوسرے پر گند اچھالنا یہ تمام باتیں ضرور راہ پاتی ہیں، کوئی دنیا کا ملک اس سے مبر انہیں ہے۔پس وہ چیز جس نے ہمیشہ مجلس شوری کو صالح رکھنا ہے وہ آپ کی محبت ہے۔اگر ایک دوسرے سے پیار رکھیں گے، ایک دوسرے سے محبت کا سلوک کریں گے، اپنے بھائی کا دل دکھانے سے پر ہیز کریں گے، اسے گناہ کبیرہ سمجھیں گے اور اگر غلطی سے دل دکھایا گیا ہے تو معافی طلب کریں گے، تو پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اندر وہ آپس کا محبت کا رشتہ اور گہرا ہوتا چلا جائے گا کیونکہ یہ بھی ایک بنیادی انسانی فطرت کا راز ہے کہ محبت یا بڑھتی رہتی ہے یا کم ہوتی جاتی ہے، کسی مقام پر ٹھہرا نہیں کرتی۔پس وہ جماعتیں جن میں وہ بنیادی محرکات جو محبت پیدا کرتے ہیں، ان کی حفاظت کی جائے ، وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت میں بڑھتے رہتے ہیں۔جہاں وہ محرکات ختم ہو جائیں،