خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد 13 279 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 / اپریل 1994ء ان پر نظر نہ رہے یا دوسری شرکی چیزیں راہ پا جائیں، ایسے موقع پر پھر محبت کے سلسلے منقطع ہونے شروع ہو جاتے ہیں یا ان میں فاصلے بڑھتے بڑھتے آخر وہ سلسلے منقطع ہو جاتے ہیں۔پس مجلس شوریٰ کی حفاظت کے لئے آپس کی محبت کی حفاظت ضروری ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ مجلس شوری کے اندر تولا زما بلا استثناء اس قدر تاکید کے ساتھ نگرانی ہونی ضروری ہے کہ ادنی سی بات بھی جو طعن و تشنیع کا رنگ رکھتی ہو اس کو نظام شوری برداشت نہ کرے اور ایسے معاملات کو مرکز کے علم میں لانا ضروری ہے۔وہاں موقع پر نصیحت بھی ضروری ہے اور اگر یہ سمجھا جائے کہ بات ان کی مقامی جماعت کی طاقت سے کچھ باہر ہے تو پھر اس کو مرکز کے علم میں لانا ضروری ہے۔یہ بھی ایک خلافت کا کام ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اور وہ جو ان کاموں پر مامور ہیں ہم توجہ دیتے ہیں۔تمام دنیا کی مجالس شوری کو یہ ہدایت ہے کہ اپنی شوری کی رپورٹیں ہمیں بھجوایا کریں اور جہاں کسی ایک فقرے سے بھی یہ شبہ پیدا ہو کہ تفصیلی بحث کی چھان بین کی ضرورت ہے تو چونکہ یہ ہدایت ہے کہ آپ نے اس کی کارروائی ریکارڈ بھی کرنی ہے تو ایسے موقع پر پھر ان کو لکھ کر وہ ریکارڈ منگوایا جاتا ہے اور ایک موقع پر مجھے یہ ضرورت پیش آئی تو مجلس مشاورت ربوہ کا ریکارڈ بھی ، بعض کیسٹ ہدایت دے کر منگوائیں اور خود سن کر دیکھا کہ کس رنگ میں وہاں باتیں ہو رہی تھیں اور کیا اس نہایت ہی مقدس روح کی حفاظت کی جارہی تھی کہ نہیں کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اللہ کے خاص فضل کے ساتھ ہمیں یہ نعمت عطا ہوئی ہے، اگر ہم نے اس کی ناقدری کی تو اس کا انجام کیا ہے وہ جہنم کا کنارہ ہے جو انہی آیات میں مذکور ہے۔فرماتا ہے تم جہنم کے کنارے پہ پہنچے ہوئے تھے کہ خدا نے تمہیں اس سے کھینچ کر دور کر دیا اور آپس میں ایک دوسرے سے باندھ دیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کا کنارا اس کا برعکس مضمون ہے تو آپس میں بندھے جانا جنت کا مضمون پیش کرتا ہے۔یعنی جہنم سے جنت کا سفر بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں اپنی رحمت سے اکٹھا کر دیا اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ یہ محمد مصطفی امیہ کے ذریعے ایسا کیا گیا۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا اے محمد ! تو اگر جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ بھی خرچ کر دیتا تو یہ لوگ آپس میں محبت کے رشتوں میں نہ باندھے جاتے۔یہ اللہ ہی ہے جس نے ان کو اکٹھا کیا ہے۔دوسری طرف فرماتا ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ -