خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد 13 266 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے ، جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالی اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔تو یہ امر واقعہ ہے اور میں اپنے ذاتی وسیع تجربے سے آپ کو بتا تا ہوں یعنی جماعت احمدیہ کے ساتھ جو میر اوسیع تعلق ہے اور ساری دنیا کے جماعت کے حالات پر کسی نہ کسی رنگ میں نظر رکھتا ہوں کہ ایسے لوگ جو اپنے بھائی کی ضرورت میں مگن رہتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں، جو جماعتی ضروریات کی خاطر اپنی ضروریات کو بھلا بیٹھتے ہیں اللہ تعالیٰ کبھی ان کو بھلاتا نہیں۔ان کی سب ضروریات کا خود خیال رکھتا ہے اور بسا اوقات دعا کے لئے ہاتھ اٹھنے سے پہلے وہ ان کی ضروریات کو دعا سمجھ کر قبول فرمالیتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر دیتا ہے۔پس بہت ہی محفوظ زندگی ہے ایسے مومن کی جس کا نقشہ حضرت اقدس محمد مصطفی اعوں نے اس نصیحت میں کھینچا ہے اس سے بہتر اور کیا تصور ہو سکتا ہے کہ آپ خدا کے بندوں کی ضرورتوں میں مگن رہیں۔آپ کی طاقت تو کم ہے آپ تو وہ سب ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے لیکن آپ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے آپ کی پشت پر وہ دنیا کا خالق و مالک کھڑا ہو جائے جس کی طاقت میں ہر چیز ہے اس سے اچھا بھی کوئی سودا ہوسکتا ہے؟ کتنا عمدہ، کیسا پیارا، کیسا نفع بخش سودا ہے کہ اپنی ادنی طاقتوں کو آپ نے خدا کے بندوں کے لئے وقف کر دیا یا خدا کی جماعت کی ضروریات کے لئے وقف کر دیا اور اس کی طاقتیں حاصل کر لیں جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔پس بہت ہی عظیم الشان نصیحت ہے یہ۔اس پر کان دھر میں اور اس سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ یہ سو فیصدی سچی بات ہے آپ کی ساری تکلیفوں کے حل ہونے کا راز اس میں پوشیدہ ہے۔فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کر دیتا ہے۔جو شخص کسی کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن پردہ پوشی کرے گا۔پردہ پوشی کا مضمون بھی اسی طرح بدن سے تعلق رکھتا ہے جیسا کہ باقی سب امور جو میں نے بیان کئے ہیں ایک بدن کی مثال سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک انسان جب دیکھتا ہے کہ کسی جگہ سے وہ بے پر د ہو رہا ہے تو فورا بے اختیار اس کا ہاتھ اپنی اس قمیص کی طرف یا اس کپڑے کی طرف جائے گا جو ننگے بدن کو ڈھانپ لے اور بعض دفعہ بجلی کی سرعت سے، بغیر سوچے سمجھے، از خود ہاتھ حرکت کرتا ہے۔احساس ہو سہی کہ کہیں سے میں بنگا ہورہاہوں اور اپنے جرموں پر بھی اور اپنی کمزوریوں پر بھی پردہ ڈالنے