خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد 13 267 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء کے لئے تو انسان اتنی اتنی کوششیں کرتا ہے کہ بعض دفعہ وہ کوششیں دھوکہ دہی تک پہنچ جاتی ہیں۔شرم سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنا اور ان پر پردہ ڈالنا اور بات ہے لیکن دھو کہ وہی کی خاطر ، جو نہیں ہے، وہ دکھانا وہ اور چیز ہے۔تو پردہ پوشی بعض دفعہ بے احتیاطی کے ساتھ کی جائے اور انسان کا ضمیر عموما اس معاملے میں انسان کو بے احتیاطی پر مجبور کر ہی دیتا ہے، تو وہ دکھاوے پر منتج ہو جاتی ہے، وہ منافقت پر منتج ہو جاتی ہے، اتنا گہر امادہ انسان کے اندر اپنے تنگ اور عیوب کو ڈھانپنے کا فطرۃ ودیعت کیا گیا ہے۔آنحضرت علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے تمہیں ایک بدن قرار دے دیا، جب تم سے مجھے یہ توقعات ہیں کہ ایک جسم کی طرح اپنے تمام بھائیوں سے سلوک کرو گے جس طرح ایک جسم کے ہر عضو سے تمہاری روح، تمہارا دماغ تمہارا شعور سلوک کرتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح اپنی پردہ پوشی کرتے ہو غیر کی بھی پردہ پوشی کرو اور پردہ پوشی کے مضمون میں اس دنیا کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قیامت کا ذکر فرمایا ہے۔ضرورتیں پوری کرنے کے مضمون کا جہاں تک تعلق ہے وہاں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتیں پوری کر دے گا۔پردہ پوشی کے تعلق میں اس دنیا کا ذکر ہی کوئی نہیں قیامت تک بات پہنچا دی۔یہ اس بات کی گہری اور قطعی دلیل ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کے نور سے کلام کرتے تھے اور یہ حدیث یقیناً کچی حدیث ہے کیونکہ ایک عام باتیں کرنے والا انسان، عام نصیحت کرنے والا انسان از خود اس موقع پر یہی کہے گا کہ تم کسی کی پردہ پوشی کر و خدا تمہاری یہاں پردہ پوشی کرے گا۔اچانک اس بات کو اٹھا کر قیامت تک پہنچا دینا اس میں ایک گہری حکمت ہے۔باقی تمام ضرورتوں کا تعلق دنیا سے ہے اور قیامت کی پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی پردہ پوشی اس میں شامل ہے لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کے عیوب اس دنیا میں ننگے نہیں ہوں گے مگر قیامت کے دن ضرور ننگے کئے جائیں گے۔پس آخری پردہ پوشی وہی ہے جو قیامت کے دن ہوگی اور قیامت کے ذکر میں دنیا کی پردہ پوشی کو حضرت اکر م ﷺ نے بھلا نہیں دیا، نظرانداز نہیں فرمایا بلکہ فرمایا ہے کہ وہ دن جب کہ دنیا میں سب ڈھکے ہوئے پر دے اگر خدا چاہئے گا تو اتار دیئے جائیں گے اور ہر ڈھکے ہوئے بدن کو نگا بدن دکھایا جائے گا اس دن تمہاری بھائی کی پردہ پوشی تمہارے کام آئے گی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے عیوب کا پردہ بن کر تمہاری کمزوریوں کے سامنے آکھڑی ہوگی۔اگر وہاں پردہ پوشی ہے تو اس دنیا میں لازما ہے یہ اس کے اندر شامل بات ہے کیونکہ وہ دنیا جس نے یہاں کسی کا نگ دیکھ لیا،