خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد 13 257 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 را پریل 1994ء صلى الله سرے کے مخالف ہو جائیں اس کام کاٹنے لگیں اور ایک دوسرے کے مخالف کا حقیقت میں محمد مصطفی علی سے تعلق کاٹا جاتا ہے۔ پس ہر وہ حرکت جو جماعت کی اجتماعیت کو طاقت بخشے، اجتماعیت کو مضبوط تر کرے، وہی حرکت ہے سنت نبوی کے تابع ہے۔ ہر وہ حرکت خواہ وہ قول ہو یا فعل ہو اس مضمون کے مخالف ہو، وہ محمد مصطفیٰ کی سنت کے مخالف بات ہے۔ پس اب سے اس بات کو سننے کے بعد اپنی زبانوں پر بھی نگاہ رکھیں، اپنے اعمال اور افعال پر بھی نگاہ رکھیں، اپنے تعلقات کو اس حدیث کے تابع کر دیں تا کہ جماعت احمد یہ جو صلى الله عروسه متحد ہو کر پھر تمام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ یعنی محمد مصطفی کے ہاتھ پر اکٹھا کرنے کی سعی کر سکے۔ ایک اور حدیث مسلم کتاب البر سے لی گئی ہے یہ حضرت نعمان بن بشیر کی روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ مومنوں کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے میں ، ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے سے مہربانی سے پیش آنے میں ایک جسم کی سی ہے۔ جس کا ایک حصہ اگر بیمار ہو تو اس کی وجہ سے سارا جسم بیقراری اور بے چینی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر : 4685)۔ بہت ہی پیاری مثال ہے اور ایک ایسی مثال ہے، جسے ہر انسان اپنی ذات کے حوالے سے بہترین رنگ میں سمجھ سکتا ہے۔ ایک انسان کے پاؤں کی انگلی کے کنارے پر بھی درد ہو، ناخن کا آخری حصہ بھی بے چین ہو، تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے مریض میں نے دیکھے ہیں ، جن کے پاؤں کی انگلی کے ایک کونے میں کوئی گہرا زخم ہے، وہاں ٹیس اٹھتی ہے، بعض دفعہ بغیر زخم کے بھی ٹیس اٹھتی ہے اور ساری رات وہ سو نہیں سکتے۔ وہ بے قرار ہو کر آتے ہیں کہ اس بیماری نے ہمیں مصیبت میں ڈال رکھا ہے حالانکہ وہ پاؤں کی انگلی کا ایک کنارہ ہے اور اگر ایسا ناسور ہو جائے کہ اسے کاٹ پھینکنا پڑے تو ساری روح بے چین ہو جاتی ہے اور انسان ہزار کوشش کرتا ہے، لاکھ جتن کرتا ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا حکیم ، کوئی ایسا ڈاکٹر کوئی ایسا قابل طبیب میسر آ جائے جو ہماری انگلی کو کاٹنے سے بچالے۔ پس یہ وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان جانتا ہے ، روزمرہ کے تجربے میں داخل ہے اور اس سے اچھی مثال مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ہمدردی کی دی جاہی نہیں سکتی اس سے اچھی مثال کسی انسان کے تصور میں آ ہی نہیں سکتی۔ زیادہ سے زیادہ لوگ مثالیں دیتے ہیں بچوں کے پیار کی یا دوسرے محبت کے رشتوں کی ۔ مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی مناسب حال مثال