خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 256
خطبات طاہر جلد 13 256 خطبہ جمعہ فرمود و 8 را پریل 1994ء مقاصد ہیں جنہیں وہ حرز جان بنائے رکھیں یعنی اپنی جان کی طرح اپنے سینے سے لگائے رکھیں۔یہ مقصد اگر جماعت کے اندر حاصل ہو جائے تو پھر تمام بنی نوع انسان کو جماعت کا فیض خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بلا تمیز مذہب و ملت، قوم اور رنگ و نسل عام طور پر پہنچے گا اور اس ذریعے سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ اپنے اعلیٰ مقاصد یعنی تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔عمومی تعلقات اور باہمی معاملات میں اخلاق سے متعلق جیسی پیاری تعلیم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنے غلاموں کو عطا فرمائی ہے آپ تمام بنی نوع انسان کے مذاہب پر نظر ڈال کر دیکھ لیں،اول سے آخر تک نظر دوڑائیں، آپ کو حقیقت میں ایسی پیاری تعلیم اتنے حسین انداز میں کوئی اور نبی دیتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔حالانکہ یہ امر واقعہ ہے کہ ہر نبی نے ویسی ہی تعلیم دی، اس سے ملتی جلتی تعلیم دی اور سب کے مقاصد بنیادی طور پر ایک تھے مگر جیسا کہ آپ اس تعلیم کو خو د حضرت محمد مصطفیٰ کے الفاظ میں سنیں گے، آپ کا دل گواہی دے گا کہ سب تعلیم دینے والوں میں سب سے آگے حضرت محمد مصطفی ﷺے ہیں۔آپ کا انداز بیان بہت ہی دلنشین ہے، آپ کی بات تقومی کی گہرائی سے اٹھتی ہے اور گہرا دل پر اثر کر جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صل اللہ نے فرمایا اور یہ ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ فرماتے تھے مومن دوسرے مومن کے لئے مضبوط عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ رے کو تقویت دیتا ہے اور مستحکم بناتا ہے۔آپ نے اس مفہوم کو واضح کرنے کے لئے اپنی انگلیوں کی کنگھی بنائی اور اس طرح اس عمارت کی گرفت کے مضبوط ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔(یوں کنگھی بنائی اور مضبوط ہاتھوں سے یوں تھام کر بتایا کہ مومن اس طرح ایک دوسرے میں پیوستہ ہوتے ہیں اور اس طرح ان کے اندر باہمی طاقت پیدا ہوتی ہے )۔پس تمام کامیابیوں کی جڑ یہ اتحاد ہے جس کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ نے زبان سے بھی نصیحت فرمائی اور ہاتھ کے اشارے سے بھی مضمون کو خوب کھول دیا۔( بخاری کتاب الصلوۃ حدیث نمبر :459) ہر وہ مومن جو ایک دوسرے سے تعلقات میں ایسی مضبوطی رکھتا ہے جیسے ایک ہی انسان کے دو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں وہ حضرت محمد مصطفی ایت اللہ کے مقاصد کی پیروی کرنے والا ہے۔جو ایسی طرز اختیار کرتا ہے کہ انگلیاں باہم پیوست ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو