خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 18

خطبات طاہر جلد 13 18 خطبہ جمعہ فرموده 7 / جنوری 1994ء اس دعا میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی فطرت کی صداقت کس طرح ظاہر وباہر ہے یعنی محض اپنے لئے طلب نہیں ہو رہی بلکہ جو چیز اپنے لئے چاہتے ہیں غیر کے لئے بھی وہی چاہتے ہیں اور صرف یہ نہیں کہ ہمیں ہی ظلم سے اور جہالت سے بچائے رکھ۔بعض دفعہ نا دانستہ بھی انسان دوسرے پر ظلم کر بیٹھتا ہے، نادانستہ یا بلا ارادہ جہالت کی بات کر بیٹھتا ہے تو فرمایا کہ ہم صرف دوسروں کے ظلم اور جہالت سے پناہ نہیں مانگ رہے۔اے خدا ہمارے ظلم اور جہالت سے بھی دنیا کو پناہ دینا۔اس میں بہت گہرے سبق ہیں اور ایک سبق اس میں یہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ قبولیت دعا کے لئے دعا کا فیض عام کرنا چاہئے اگر دعا محض خود غرضی کی ہو تو اسے پایہ قبولیت میں ایسی جگہ نہیں مل سکتی جیسی ایک بے غرض کی دعا ہوتی ہے پس جہاں غیروں کی غرض کو اپنی غرض میں شامل کر لیا جائے وہ دعا زیادہ مقبول ہو جاتی ہے کیونکہ وہ رب العالمین کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتی ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے، سب جہان کے لئے جب آپ فیض مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔دوسرے یہ کہ جو سبق میں نے اس سے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ واقعہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو اللہ دشمنوں کی جہالت اور ان کے ظلم سے بچائے تو اپنے ہاتھ ظلم اور جہالت سے روکیں اگر آپ کے ہاتھ ظلم پر لمبے ہوتے ہیں اور جہالت پر دراز ہوتے ہیں تو پھر یہ دعا کرنا کہ اے اللہ ہمیں ظلم سے بچا اور ہمیں جہالت سے بچا محض ایک کھو کھلی اور بے معنی دعا ہو گی۔پس دعا کے دوسرے پہلو نے صرف دعا نہیں سکھائی زندگی کے آداب سکھائے ہیں ایک روز مرہ کی زندگی کا سلوک بتایا ہے کہ تم اگر اللہ تعالیٰ سے جہالت سے بچنے کی دعا مانگتے ہو تو لازم ہے کہ خدا کے بندوں کو اپنی جہالت سے بچاؤ۔اگر اللہ تعالیٰ سے ظلم سے بچنے کی دعا مانگتے ہو تو لازم ہے کہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم سے بچاؤ۔اگر اللہ تعالیٰ سے ظلم سے بچنے کی تمنار کھتے ہو تو تم پر فرض ہے کہ دنیا کو اپنے ظلم سے بچاؤ اور پھر نیک عمل کے ساتھ یہ دعا کرو گے تو دعا مرفوع ہوگی کیونکہ قرآن کریم نے یہ راز ہمیں سمجھا دیا ہے کہ وہ کلمہ طیبہ جو عمل صالح ساتھ رکھتا ہو، عمل صالح کی طاقت رکھتا ہو وہ آسمانوں کی رفعتوں تک بلند ہو جاتا ہے اور جس کے ساتھ اعمال کا ایندھن نہ ہو اس میں اٹھنے کی طاقت نہیں جیسے بغیر ایندھن کے جہاز اڑانے کی کوشش کی جائے۔تو اسی دعا نے یہ سارے مضمون ہمیں سکھا دیے کہ دعا غیروں کے لئے بھی کرو اور اپنے لئے بھی کرو اور عمل سے بھی اس دعا کی تائید کرو تو پھر دیکھو کہ کس طرح تمہارے حق میں یہ دعا