خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 19
خطبات طاہر جلد 13 قبول ہوتی ہے۔19 خطبہ جمعہ فرمودہ 7 جنوری 1994ء نبی کریم ہے جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو یوں کہتے۔”ہم لوٹ رہے ہیں تو بہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔“ یہ دعا بھی گہری حکمت رکھتی ہے۔عام طور پر جب ہم سفر سے واپس لوٹتے ہیں تو پہلی بات یہ کرتے ہیں اور اکثر یہی کرتے چلے جاتے ہیں کہ الحمد للہ خدا نے خیر و عافیت سے سفر تمام کیا اور ہم خوش خوش اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے ہیں مگر حضرت اقدس محمد مصطفی مے خدا کی طرف لوٹنے کے ساتھ اس مضمون کو باندھ دیا کرتے تھے اور یہ آپ کی سچائی کی بہت گہری دلیل ہے۔حقیقت میں اگر کوئی اپنے نفس کا عرفان رکھتا ہو تو اس کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے عرفان کی بھی صلاحیت عطا ہو جاتی ہے اگر اپنے نفس کا ہی عرفان نہ ہو تو کسی عرفان کی بھی صلاحیت نہیں ہوسکتی تو وہ جاہل اور گستاخ جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر حملے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کیا نشان دیا ؟ کیا دکھایا؟ اگر ان میں ذرا بھی بصیرت ہو اور آنحضور ﷺ کی روزمرہ کی زندگی کے ایک عام دستور کو دیکھیں تو وہیں سے ان کو آپ کی صداقت کے نشان مل جائیں گے اور ہر نشان کافی ہو گا۔ایک ہی دلیل حضور اکرم کی صداقت پر روز روشن کی طرح گواہ رہے گی۔اب یہ دیکھیں کہ سفر سے لوٹنے کے بعد یہ عرض کر رہے ہیں کہ ہم تیری طرف تو بہ کے ساتھ لوٹتے ہوئے لوٹ رہے ہیں یعنی انسان سفر سے گھر کے آرام کی طرف آتا ہے اور اسے پناہ ملتی ہے۔اگر انسان نے خدا کی طرف جانا ہے اور تو بہ کے بغیر اسے وہ پناہ مل نہیں سکتی۔تو عارضی سفر کا خیال دل سے وقتی طور پر محو ہو جاتا ہے اور زندگی کے لمبے سفر کی طرف دھیان چلا جاتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ ہم نے خدا کی طرف جانا ہے پس اس سے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم تو بہ کے ساتھ تیری طرف لوٹنے والے بہنیں اور تو ہمیں قبول فرما اور ہمیں اس طرح پناہ دے جس طرح سفر کی تھکاوٹ کے بعد گھر پناہ دیا کرتا ہے۔ہم اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے حضر اور سفر کو ویسا ہی بنادے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنے کلام سے اور اپنے اسوہ سے ہمیں تعلیم عطا فرمائی ہے۔یہ مضمون لمبا ہوتا چلا جارہا ہے مگر اچھا ذ کر ہے بہت ہی پیارا ہے جتنا لمبا ہو، اچھا ہے۔انشاء اللہ باقی آئندہ خطبے میں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔