خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد 13 197 خطبه جمعه فرمودہ 18 مارچ 1994ء گھر بھی روشن کر لیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وہ نور آپ کو عطا ہوا جس کے لئے بلایا گیا تھا۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دل بھی ایک طور کے طور پر پیش ہو رہا ہے۔ فرماتا ہے وہاں تو ایک موسیٰ نے ہدایت پائی تھی اور پھر آگے جاری کی تھی۔ محمد مصطفی کا دل ہی وہ طور ہے جس پر روشنی دیکھ کر طور نور تلاش کرنے والے اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں اور ان میں سے پھر اللہ انتخاب فرماتا ہے ہر ایک کو یہ توفیق نہیں دیتا۔ يَهْدِي اللهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ پھر جس کو چاہتا ہے اس کو اس نور تک پہنچنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اس میں بھی اس کی صلاحیتیں دیکھتا ہے۔ پھر وہی آیت بیت سامنے آ جاتی ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - محمد مصطفی ﷺ کی رفعتوں کو پہچاننے کے لئے کچھ صلى الله عليسة اندرونی رفعتیں بھی چاہئیں ۔ آپ کے نور سے نور حاصل کرنے کے لئے کچھ اندرونی صلاحیتیں درکار الله ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو محمد رسول اللہ ﷺ تک راہنمائی نہیں فرماتا بلکہ اس کے دل کا نور ہے جو فیصلہ کن بنتا ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک تار کی خرابی کی وجہ سے قریبا چار پانچ منٹ پہلے آواز بھی نہیں جاسکی، لیکن پانچ چھ منٹ پہلے بتانا تھا اب اتنی دیر بعد کیوں بتایا اب میں سارا خطبہ وہاں سے دوبارہ دہراؤں یہ اب کوئی مناسب نہیں ہے کافی وقت گزر چکا ہے۔ بہر حال آئندہ اگر آپ کے ہاں کیسٹ بن رہی ہو تو آئندہ اس خطبے کا پہلا حصہ پھر کسی وقت دکھا دینا، اگلے جمعے میں ۔ دکھا ۔ پھر اعلان کے بعد ابھی بھی ایک اور آواز آ رہی ہے بیچ میں سے اس کو بند کروائیں جو ترجمہ ہو رہا ہے وہ یہاں بھی سنائی دے رہا ہے۔ ایک تار نہیں دو تاروں کی خرابیاں بہر حال ترجمے کی آواز یہاں تک براہ راست پہنچ رہی ہے عجیب بات ہے مگر جب یہاں میں بات بیان کر رہا ہوتا ہوں تو اس سے خلل واقع ہو جاتا ہے۔ ) صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا جو نور ہے یہ ایک طور کے نور کی مثال بن گیا اور وہاں سے عليسة پھر صحابہ نے جن کو اللہ نے توفیق عطا فرمائی اس نور سے اپنے دلوں کے نور روشن کئے اور وہ نور جو محمد مصطفی اللہ کے دل پر اتر ا تھا اور نُورٌ عَلَى نُورِ کا منظر دکھا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر اچانک فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ( النور : 37)