خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد 13 196 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء ہے۔ان کے متعلق پہلے میں تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں لیکن کوئی بھی قرآن کریم کی آیت ایسی نہیں جس پر کوئی بات مکمل ہو سکے یا ہو سکتی ہو کیونکہ جب انسان آیات قرآنی پر غور ہوتا ہے کوئی نہ کوئی نیا مضمون اس میں سے ابھر آتا ہے، کوئی ایسا پہلو سامنے آ جاتا ہے جو پہلے سامنے نہیں تھا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے نور بننے کے ساتھ ساتھ یہ ایک حقیقت بیان فرمائی ہے جو بہت ہی اہمیت رکھتی ہے کہ محمد پر آسمان سے نور نازل نہ ہوتا اگر وہ خود نور نہ ہوتے۔پس وہ جو آسمانی نور کے متلاشی ہیں انہیں لازم ہے کہ اپنے اندر نور پیدا کریں اور یہی وہ مضمون ہے جس کا تعلق اس آیت کریمہ سے ہے۔وہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے هُدًى لِلْمُتَّقِینَ۔جن کا دل پاک اور صاف نہ ہو ، جن کا دل خود ضمیر سے روشن نہ ہو ان پر آسمان سے بھی کوئی نور نہیں اترا کرتا اور آنحضرت ﷺ سے متعلق یہ بات بیان فرما کر در حقیقت آپ کی فضیلت کی ایک اور وجہ ہمارے سامنے پیش فرما دی کہ تمام انبیاء پر آپ کو کیوں فضیلت ہوئی ؟ ہر نبی پر نور ویسا ہی اترتا ہے جیسا اس کے دل میں ہو اور جتنا بڑا نور انسان کے ضمیر سے اٹھتا ہے اتنا ہی عظیم الشان شعلہ نور آسمان سے اترتا ہے۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نور تمام نبیوں سے بڑھ کر تھا تبھی اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے روشن تر نور آپ پر اتارا اور اس سے خدا تعالیٰ کی عطا کے اندر جو اندرونی ایک عدل پایا جاتا ہے اس پر روشنی پڑتی ہے۔ملتا تو عطا سے ہے مگر عطا بھی عدل کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور جیسا کسی کا صلى الله استحقاق ہو ویسا ہی اس کو عطا کیا جاتا ہے۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ کے پر خالصہ اللہ کی عطا ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ اس عطا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ خود ایک نور تھا اور اس نور سے ملتا جلتا ، اس کے مطابق، اس کی شایان شان، اس کے شان بڑھانے والا ایک اور نور آسمان سے اترا تو وہ وجود نُورٌ عَلَى نُورِ بن گیا۔پھرفرماتا ہے جیسے لوگ روشنی کی تلاش میں جن کے ہاں اندھیرا ہو بعض دفعہ دور دور چلے جاتے ہیں ڈھونڈنے کے لئے کہ کہیں کوئی بتی جل رہی ہو تو اس سے اپنا دیا روشن کر لیں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔آگ کے بغیر بیٹھے ہوئے تھے پہاڑی پر ایک روشنی دیکھی۔اپنی زوجہ مبارکہ سے کہا کہ میں چلتا ہوں شاید وہاں سے کوئی آگ کا شعلہ مل جائے تو ہم اپنا