خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد 13 191 خطبہ جمعہ فرموده 11 / مارچ 1994ء علماء بھی تھے ،مگر عالم تھے یا ظاہری لحاظ سے جاہل تھے، اندرونی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو علوم سے آراستہ فرمایا گیا تھا۔روحانی علوم سے ان کے سینے بھرے گئے تھے اور چھوٹا تھایا بڑا ، ظاہری طور پر عالم تھا یا جاہل وہ تمام کے تمام تبلیغ میں سرگرداں رہتے تھے اور اسی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ جماعتیں مخالفت کے علی الرغم قائم ہوئیں۔شدید مخالفتیں تھیں ، اتنی کہ آج تصور بھی نہیں کر سکتے۔پاکستان کی تمام تر مخالفتیں ایک طرف اور وہ مخالفت کا دور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ نے آغاز میں دیکھا ہے اس کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔دن رات سارا ہندوستان بلکہ عرب تک کے علماء گالیاں دینے اور جانیں حلال کرنے کے فتوے دینے میں مشغول تھے کہ ان کی جانیں حلال ہوگئیں ، ان کے مال حلال ہوگئے ،ان کی بیویاں مطلقہ ہو گئیں۔کچھ بھی ان کا نہیں رہا۔جو چاہے جس طرح چاہے ان کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے خدا کے نزدیک مقبول ٹھہرے گا۔یہ وہ دور تھا جس دور میں صحابہ کی یہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عقب میں روانہ ہوئی ہے اور ہر قدم ترقی کی طرف اٹھا ہے۔ایک لمحہ ایسا نہیں آیا کہ اس جماعت کے قدم رک گئے ہوں۔پس خدا جب ان برکتوں کی یادیں دہرا رہا ہے اور وہ کیفیتیں ہمارے دلوں میں پیدا فرمارہا ہے جو کیفیتیں اس زمانے میں صحابہ کے دلوں میں تھیں اور سو سال کی برکت سے ہم اس دور سے دوبارہ گزر رہے ہیں تو یہ وہ جذبہ ہے جس کے ساتھ میں آپ کو دعوت الی اللہ کی طرف بلاتا ہوں کوئی پرواہ نہ کریں دشمن اس راہ میں کیسے روڑے انکا تا ہے اور کیسی کیسی تکلیف محسوس کرتا ہے۔دشمن کی تکلیف آپ کی خوشیوں کو آپ کے دلوں سے کیسے نوچ سکتی ہے، یہ ناممکن ہے۔پاکستانی حکومت نے پہلے تو بغیر کسی قانون کے ان مظلوموں پر ہاتھ ڈال دیئے جو خوش ہورہے تھے کہ خدا تعالیٰ نے سوسال بعد ہمیں پھر وہ دن دکھائے جبکہ چاند سورج گرہن کی عظیم پیشگوئی پوری ہوئی۔ان کو قیدوں میں ڈالا گیا، گھسیٹا گیا، مارا کوٹا گیا، گالیاں دی گئیں ، ان کے خلاف تحریکات چلیں پتوکی میں کیا ہوا ؟ لاہور میں کیا ہوا؟ ربوہ میں کیا ہوا؟ جگہ جگہ ایسے واقعات ہیں اور کوشش کیا ہے؟ کہ اللہ نے ان پر جو فضل فرمایا ہے اس سے جو خوش ہورہے ہیں یہ خوشیاں ان سے نوچ لیں۔خوشیاں تو وہ دلوں سے نہیں نوچ سکتے، نہ ہمیں یہ توفیق ہے کہ ان کے دل میں حسد نے جو غیظ بر پا کر رکھا ہے، آگ کھول رہی ہے، اس آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔نہ ان کو توفیق نہ ہمیں تو فیق۔ہم دونوں