خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 190

خطبات طاہر جلد 13 190 خطبه جمعه فرموده 11 / مارچ 1994ء بھر بھر کے برکتیں لاتا ہے اور ہم پر انڈیلتا ہے یہ وہ جمعہ جس کے ساتھ ہماری بہت سی برکات وابستہ ہیں۔پس جماعت احمد یہ اگر جمعہ کا احترام نہ کرے اور شکر کا حق ادانہ کرے تو بڑی بد بختی ہوگی۔یہ وہ سورہ جمعہ ہی ہے جس نے آخرین کو اولین سے ملانے کی خوشخبری دی تھی اسی کی آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے پھر یہ فرمایا۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ تَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ی تو اللہ کا فضل ہے کون روک سکتا ہے اس کو؟ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور بڑے ے فضلوں والا ہے۔یہ سورۃ جمعہ ہی تھی جس نے یہ خوشخبری آنے والوں کو دی کہ ایسے بھی خوش نصیب آنے والے ہیں جو آخر پر ہونے کے باوجود اولین سے ملا دیئے جائیں گے اور ان کے حق میں ہی آسمان نے یہ دو گواہیاں پیش کیں اور ہم اس دور سے گزررہے ہیں کہ وہ ساری برکتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بارش کی طرح برسی ہیں ہم اسی زمانے سے گزرتے ہوئے ان کی یادوں سے مست ہیں۔عجیب کیفیت ہے یہ۔میں آج سوچ رہا تھا کہ وہ جو کفار کہا کرتے تھے کہ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ “ یہ تو مسلسل جاری رہنے والا ایک سحر ہے جو پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ہم بھی تو اس سحر ہی کی حالت میں سے گزر رہے ہیں۔کیوں کہا کرتے تھے اس لئے کہ وہ دیکھا کرتے تھے کہ اتنے فضل نازل ہورہے ہیں ،ایسی برکتیں اتر رہی ہیں کہ صحابہ تو گویا جادوزدہ ہیں، نشے کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اب تو لگتا ہے کہ وہی جادو کے دن دہرائے جارہے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو برکتیں نازل ہوئی تھیں وہ بھی تو ایک سحر کا سا منظر پیش کرتی تھیں اور اب ان سے گزرتے ہوئے ہمیں ایسا لطف آ رہا ہے کہ گویا ایک جادو کی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان کا حال کیا ہوگا جنہوں نے حضرت مسیح موعود یہ السلام کو دیکھا، آپ پر عاشق ہوئے اور اس کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ، سب دنیا تج کے، ہر چیز فنا کر کے مسیح موعود ہی کے ہور ہے اور اس پیغام کو ساری دنیا میں پہنچایا ہے۔پس اب جبکہ میں دعوت الی اللہ کی طرف آپ کو دوبارہ بلا رہا ہوں میں یاد کرا تا ہوں کہ ایسے ہی دنوں میں دعوت الی اللہ کا پیغام شروع ہوا تھا ایسے ہی دنوں میں وہ آغاز ہوا تھا۔اسی مستی کے عالم میں انہوں نے تمام دنیا کو پیغام پہنچائے تھے اور حیرت انگیز طور پر جبکہ ابھی مبلغوں کا، مربیوں کا نظام جاری نہیں تھا، وہ صحابہ یہی تھے جو کچھ ان پڑھ بھی تھے، کچھ پڑھے لکھے بھی تھے ، کچھ بڑے بڑے