خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 169

خطبات طاہر جلد 13 169 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 مارچ 1994ء ہے جس کے بغیر پھر زندگی نہیں چل سکتی ۔ تو خدا کے قریب ترین آنے والی عبادت روزہ ہے جو خدا سے مماثلت میں سب سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ حی و قیوم ہے کسی غذا کا محتاج نہیں، کسی پانی کا محتاج نہیں اور روزمرہ زندگی میں انسان ان چیزوں کا محتاج رہتا ہے۔ عبادتیں پھر بھی ساتھ جاری رہتی ہیں۔ رمضان مبارک میں اور روزوں میں انسان خدا کی خاطر خدا کی مشابہت میں قریب تر آ جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی جزاء بن جاتا ہوں ۔ یعنی اس نے زیادہ سے زیادہ میرے قرب کی کوشش کی ہے۔ عبادت کا جو لفظ ہے ( یہ دراصل عبادت اور عبودیت یہ دو الفاظ ہیں اسی طرح ایک عبدیت کا لفظ بھی ہے جس میں عبد کا مضمون پایا جاتا ہے ) ۔ عبد کہتے ہیں غلام کو ۔ عبد کہتے ہیں اس شخص کو جس کا اپنا کچھ نہ رہا ہو اور انہی معنوں میں اللہ نے قرآن کریم میں انسانوں کے لئے عبد کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس لئے کہ وہ پیدائشی غلام ہیں۔ ”گھر سے تو کچھ نہ لائے والا مضمون ہے۔ نہ اپنی بناوٹ میں ان کا کوئی عمل دخل، نہ اپنی بقا میں ایک ذرے کا بھی ان کی کمائی کا کوئی دخل ہے۔ یہ تمام تر انسان کا وجود اللہ تعالیٰ کے احسانات کا مرہون ہے اور اسی کی تخلیق کے نتیجے میں انسان کو وجود کی خلعت بخشی جاتی ہے۔ تو وہ پیدا غلام ہوا ہے یہ یاد رکھنا چاہئے ۔ اس کا اپنا کچھ نہیں کیونکہ غلام کی تعریف یہ ہے کہ جس کا اپنا کچھ نہ ہو اور پھر اسے عارضی طور پر ملکیتیں عطا ہوتی ہیں یہاں تک کہ پھر اس سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ از خودا اپنی ملکیتیوں کو ترک کر کے خدا کے سپرد کرنا شروع کرو اور یہ عبادت ہے۔ عبادت کا اعلیٰ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اس بات کی تربیت دے کہ خالی ہاتھ آیا تھا دنیا میں آ کر ہاتھ بھر گئے ، بہت سی چیزیں مل گئیں، بہت سی چیزوں سے تعلقات قائم ہو گئے ، اب از خود، جبر انہیں ، موت کے ذریعے نہیں بلکہ خود اپنے اوپر ایک موت طاری کر کے ان چیزوں کو خدا کے سپرد کرنا شروع کرو۔ ساری نہیں تو کچھ نہ کچھ کرو۔ لمبے عرصے تک نہیں تو کچھ عرصے کے لئے کرو یہاں تک کہ تمہارا ارادہ تمہاری عبدیت میں شامل ہو جائے اور اس کا نام عبادت ہے۔ عبودیت سے عبادت کا یہ فرق ہے کہ عبودیت میں تو بندے کے جتنے سلوک ہیں وہ سارے اس لفظ میں آجاتے ہیں۔ عبادت بندے کے اس تعلق کو کہتے ہیں جو از خود اپنے شرح صدر کے ساتھ اپنی ملکیتیوں کو خدا کی طرف لوٹا رہا ہے اور اپنے تعلقات کو اس کیلئے خاص کر رہا ہے دنیا سے تعلق کا شتا ہے، اللہ کے سپرد ہو جاتا ہے، اپنی تمناؤں کا مرکز اس کو بنا لیتا ہے۔ تو ہر جگہ جو انتقال ہے ذہنی ہو یا عملی