خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 168
خطبات طاہر جلد 13 168 خطبه جمعه فرموده 4 / مارچ 1994ء اس سے کہتا ہے اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے ایک طبعی امر ہے۔تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے ایسا ہی سلوک فرماتا ہے اور اس حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے کہ سارے دن کے بعد روزہ کھولا ہے تو خدا تعالیٰ اس وقت خاص مانگ کیا مانگ“ کے جلوے میں ہوتا ہے۔اور اس وقت کوئی دعا ایسی کرنی چاہئے جو انسان کی عاقبت کو درست کر دے، عاقبت سنوار دے۔لیکن ایسا تبھی ہوتا ہے جب انسان اس امر مفوضہ، یعنی اس کام کو باحسن سرانجام دے، جو اس کے سپرد کیا گیا ہو۔اگر کام احسن طریق پر کرنے کی بجائے اسے بگاڑ کر آیا ہو تو پھر اس سے یہ سلوک نہیں ہوا کرتا۔پس یہ نہ خیال کریں کہ یہ کوئی میکانکی چیز ہے۔خود بخودہی ہر روزہ دار کو یہ موقع ملتا ہے کہ اس کی ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔ان روزے داروں کا ذکر ہے جو روزے کو اچھی طرح گزارتے ہیں اور ایسے انداز سے گزارتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ان پر پڑتی ہے۔پھر جب وہ کام کو مکمل کر لیتے ہیں تو ان کی کوئی دعا ایسی ہے جسے خدا ضرور سن لیتا ہے۔پس اس پہلو سے اپنے روزوں کو بھی سنوارنے کی کوشش کریں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ تو میرے لئے ہے میں ہی اس کی جزاء بن جاتا ہوں یعنی روزوں کے ذریعے وصال الہی حاصل ہوتا ہے۔یہ اس لئے ہے کیونکہ میرا بندہ میرے لئے روزے میں اپنی جائز خواہشات اور اپنے کھانے پینے کو بھی ترک کر دیتا ہے۔فرمایا کہ روزہ گناہوں کے خلاف ایک ڈھال ہے اور روزے دار کے لئے دوخوشیاں مقدر ہیں ایک وہ خوشی جو اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ خدا کے فضل سے اپنے روزوں کو مکمل کر لیتا ہے۔یعنی ہر روز جب وہ روزہ مکمل کرتا ہے تو اسے خوشی میسر آتی ہے یہ خوشی اسے دنیا میں ملتی ہے اور ایک وہ خوشی ہے جو اسے آخرت میں ملے گی جب وہ اپنے رب سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے راضی ہوگا۔نیز آنحضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بُو خدا کو مشک کی بُو سے بھی زیادہ پیاری ہے۔( بخاری کتاب الصوم حدیث : 1771) اس حدیث میں ” میں جزاء بن جاتا ہوں“ کا جو مضمون ہے وہ کھول کر سمجھایا گیا ہے کہ عام عبادات میں انسان جائز باتیں ترک نہیں کرتا۔کوئی اور عبادت ایسی نہیں ہے جو وہ جائز چیزیں جو انسان کے لئے خدا تعالیٰ نے خود جائز قرار دے دی ہیں وہ خدا کی خاطر چھوڑ رہا ہو۔ایک روزہ ایسی چیز ہے جس میں تمام حلال باتیں بھی منع ہو جاتی ہیں سوائے سانس لینے کے۔کیونکہ یہ تو ایک ایسی چیز