خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد 13 170 خطبه جمعه فرموده 4 / مارچ 1994ء ہو یہ دراصل خدا کی ہی چیز خدا کے سپرد کرنے والی بات ہے۔یہ حالت جب ترقی کرتی ہے تو اس کو مزید مدد دینے کیلئے روزہ جگہ جگہ اس کے سہارے کے لئے آ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔اس حالت میں اپنے تمام وجود کو اس طرح خدا کے سپرد کر دینا کہ گویا موت کے قریب پہنچ جائے اور رمضان جب گرمیوں میں آتا ہے تو وہ واقعی موت کے قریب پہنچانے والی بات ہے۔ہم نے خود بہت سخت رمضان ربوہ کے ابتدائی دنوں میں کالے ہیں۔ایسے سخت رمضان تھے وہ کہ آپ یہاں بیٹھ کے تو اس کا تصور کر ہی نہیں سکتے۔بعض دفعہ ایک ایک ہفتے تک ایک سو ہیں درجے سے اوپر درجہ حرارت رہتا تھا۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے 124 درجہ حرارت تقریبا دن رات رہتا تھا کیونکہ دن کو دھوپ پڑتی تھی اور رات کو پہاڑیاں ریڈی ایشن (Radiation) کرتی تھیں اور دن کی جذب کی ہوئی گرمی وہ سورج کی قائم مقامی میں واپس چھوڑ رہی ہوتی تھیں اور ہم ٹمپریچر دیکھتے تھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا نہ دن کو نہ رات کو حالانکہ عرب میں بہت گرمی ہوتی ہے لیکن رات بہت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اس لئے کچھ Relief مل جاتا ہے۔تو روزہ اس طرح کھولتے تھے کہ نیم مردہ کی حالت ہوتی تھی اور بعض لوگ چادر میں بھگو بھگو کر اوپر لیتے تھے، پنکھے بھی نہیں تھے، بڑی سخت گرمیاں تھیں۔بجلی کوئی نہیں تھی ، مکان تھوڑے تھے اور مٹی بہت اڑتی تھی۔عجیب قسم کی بلائیں تھیں جو گھیرے ہوئے تھیں۔لیکن اللہ نے اس زمانے میں بھی بچوں کو اور بڑوں کو خوب توفیق دی اور اپنے فضل سے ان بداثرات سے بھی بچالیا۔رمضان خدا کی خاطر ایسی سختیوں کا نام ہے کہ جو بعض دفعہ موت کے منہ تک پہنچا دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ کہتا ہے کہ میں جزا ہوں۔اور فرمایا ہے کہ مجھے ایسے شخص کے منہ کی بد بو بھی جورمضان میں میری خاطر اس نے قبول کر لی ہے، یہ کستوری کی خوشبو سے بہتر لگتی ہے۔یہ مراد تو نہیں ہے کہ کستوری کی خوشبو اللہ تعالیٰ سونگھتا ہے لیکن خالق کو اس چیز کی صفات کا علم ہوتا ہے۔جب تک ایک خالق کو اس چیز کی صفات کا علم نہ ہو وہ چیز بنا ہی نہیں سکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا بے ہودہ بات ہے کہ وہ سونگھ سکتا ہے کہ نہیں۔جو چیز اس نے پیدا کی ہے اس کے تمام خواص سے وہ واقف ہے ورنہ اس کی تخلیق کے ڈیزائن میں وہ خواص آہی نہیں سکتے۔پس یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بد بو کیا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ خوشبو کیا ہوتی ہے اور اس موقع پر وہ خوشبو پر یڈ کو ترجیح دے رہا ہے۔لیکن اس سے مومن عموما یہ تو خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے رمضان کی منہ کی بو اچھی بات