خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد 13 164 خطبہ جمعہ فرمودہ 4/ مارچ1994ء وہیں سے آپ کے سر پہ تیل لگا کر کنگھی کر دیا کرتی تھی۔( بخاری کتاب الاعتکاف حدیث :1888) اور حدیث کو اپنے اصل مسلک سے ہٹا کر فقہاء میں یہاں تک بحثیں راہ پاگئی ہیں کہ مسجد میں بیٹھ کر حجامت بنوانا جائز ہے کہ نہیں ہے اور فتویٰ دینے والوں نے فتوی یہی دیا کہ جائز ہے۔اور حوالہ اس حدیث کا دیتے ہیں۔مجھے تعجب ہوا کہ جب میں نے جماعت احمدیہ کی فقہ میں دیکھا جو ہمارے ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم کی تحریر کردہ ہے تو وہاں بھی یہی لکھا ہوا تھا۔باقاعدہ بحث اٹھائی گئی تھی کہ سوال ہے کہ مسجد میں اعتکاف کے دنوں میں بیٹھ کر سرمنڈوانا، حجامت کروانا جائز ہے یا نہیں۔تو جواب یہ ہے کہ جائز تو ہے مگر مگر وہ ہے اور مکروہ ہونے کے لحاظ سے حضرت امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے اس بات کو ناپسند فرمایا۔اس کو ناجائز اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ رسول اکرم ﷺ نے مسجد میں ہوتے ہوئے اعتکاف کی حالت میں سر کھڑکی سے باہر کیا اور وہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کے سر پہ تیل بھی لگایا اور سنکھی بھی کی۔اب اس سے یہ ثابت ہو جانا تو حیرت انگیز بات ہے۔سوال یہ ہے کہ بعض باتیں ایسی ہیں جن کا فتاوی سے تعلق نہیں ہوتا۔سیدھی سادھی عقل سے تعلق ہوتا ہے۔مسجد میں حجام آنے شروع ہو جائیں اور وہاں کپڑے بچھائے جائیں اور ان پر حجامتیں ہو رہی ہوں، ایسا بھیا نک تصور ہے کہ اس پر یہ سوال اٹھانا ہی بے وقوفی ہے کہ یہ جائز ہے کہ نا جائز ہے۔اب یہ سوال اٹھنے شروع ہو جا ئیں فقہ میں کہ ایک آدمی اپنی ٹانگوں کے ساتھ رسیاں باندھے، الٹا لٹک جائے، الٹا لٹک کے کھانا کھائے یہ جائز ہے کہ ناجائز ہے۔تو جواب دیا جائے کہ جائز تو ہے مگر مگر وہ ہے۔جواب یہ ہونا چاہئے کہ تمام اہلِ عقل کیلئے ناجائز ہے اور جو بے وقوف ہیں ان کے لئے ہر چیز جائز ہے پھر مسئلہ کیا پوچھتے ہیں۔پس جب آپ ان روایات کو یا دیگر روایات کو پڑھتے ہیں۔وہ روایات جن کا اعتکاف یا عبادتوں سے تعلق ہے وہاں بہت سے ایسے مضمون راہ پاگئے ہیں جن پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ سوال اٹھائے کیوں گئے ہیں۔لیکن اگر آج کل کا کوئی تعلیم یافتہ انسان ان تمام فقہی بحثوں کو پڑھے جن کا ذکر ہمارے فقہاء کی کتب میں ملتا ہے۔تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔بعض متنفر ہو کے دین سے ہٹ جاتے ہیں۔کہتے ہیں یہ فقہ ہے مذہب کی۔جو سب سے اعلیٰ مذہب، سب سے کامل مذہب اور یہ لغو بخشیں اس میں اٹھائی جا رہی ہیں۔کو احلال ہے کہ حرام ہے اگر مکروہ ہے تو اسے طیب بنانے کے لئے کیا طریق