خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد 13 163 خطبہ جمعہ فرموده 4 / مارچ 1994ء کا ناغہ نہیں فرمایا چنانچہ شوال کے ایام میں آپ اعتکاف بیٹھے۔بیچ کے دنوں کا اعتکاف آخری عشرے کے اعتکاف میں کیسے تبدیل ہوا؟ ایک دفعہ صبح کے وقت حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے وہ رات دیکھی ہے۔یعنی لیلة القدر مراد تھی اور وہ دیکھی ہے اکیس کی صبح کے تعلق میں۔جبکہ اعتکاف ختم ہو چکے تھے۔آپ نے فرمایا اس کی مجھے علامتیں بھی دکھائی گئی ہیں۔بارش ہو رہی ہے اور چھت ٹپک رہی ہے اور میں سجدہ کرتا ہوں تو میرے ماتھے پر گیلی مٹی لگ جاتی ہے اور پانی بھی مجھ پر پڑا ہوا ہے۔یہ فرمانے کے بعد فرمایا کہ میں پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا کہ بعینہ وہ کون سی رات ہے مگر یہ نظارہ میں نے اکیس کی رات کو دیکھا ہے۔اس لئے آئندہ سے میں آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھا کروں گا۔پس جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف بیٹھنے کی سعادت پائی ہے ( یعنی لفظ سعادت وہاں تو استعمال نہیں فرمایا تھا میں کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ سعادت پائی ہے ) وہ میرے ساتھ اسی رمضان میں اس عشرے میں بھی بیٹھیں۔تو اس آخری عشرے میں بھی آنحضور ﷺ اعتکاف میں بیٹھے اور وہ سال ایسا تھا کہ دو اعتکاف اکٹھے ہو گئے۔ایک وسطی عشرے کا ایک آخری عشرے کا اور راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی رات بارش بھی ہوئی اور ہم نے خود آنحضرت ﷺ کی پیشانی پہ وہ مٹی لگی ہوئی دیکھی ہے۔وہ چھت ٹپکی ہے اور خاص طور صلى پر اس رؤیا کی صداقت کے اظہار کے طور پر وہاں ٹپکی کہ جہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سجدہ فرمایا کرتے تھے اور پھر ہم نے دیکھا کہ آپ بھیگ چکے تھے اور ماتھے پر وہ گیلی مٹی لگی ہوئی تھی۔یہ روایت بخاری کتاب الاعتکاف سے لی گئی ہے اور اس کے راوی ہیں سعید الخدری جو بہت مشہور اور ثقہ راوی ہیں۔( بخاری کتاب الاعتکاف حدیث نمبر : 1895) پس اس دن سے یہ سنت پختہ ہوگئی اور اس پر آنحضرت ﷺ پر تمام زندگی قائم رہے کہ رمضان مبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور دیگر اصحاب جن کو توفیق ملتی اور مسجد میں ان کے لئے جگہ ملتی ان کو بھی اجازت تھی کہ وہ ساتھ بیٹھیں۔آنحضور ﷺے عام طور پر اس جگہ اعتکاف بیٹھتے تھے کہ جہاں آپ کے گھر کی طرف اندرون خانہ ایک کھڑ کی مسجد میں بھی کھلتی تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ بعض دفعہ سر میں تیل لگانا ہواور کنگھی کرنی ہو تو آپ کھڑکی سے سر باہر کر دیا کرتے تھے یعنی گھر کی طرف اور میں