خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 165

خطبات طاہر جلد 13 165 خطبہ جمعہ فرمود ه 4 / مارچ 1994ء اختیار کرنے چاہئیں۔کتنے دن بھوکا رکھا جائے کتنے دن صرف پانی پلایا جائے تا کہ اس کا سابقہ گند دور ہو جائے اور اس کا گوشت حلال بن جائے۔کتا بیں لکھی گئی ہیں اس پر۔ایسی ایسی بحثیں اٹھائی گئی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے تھے۔جو کہتے تھے کو اکھانا جائز ہے وہ کہتے صلى الله تھے کہ ہم اس کے خلاف کوئی بات سنے کو تیار نہیں اور تم دین کو بگاڑ رہے ہو جب کہتے ہو کہ کو احترام ہے۔میں آپ کو یہ اس لئے سمجھا رہا ہوں کہ اعتکاف کے تعلق میں بھی جو روایتیں ملتی ہیں ان کو عقل سے پہچاننا چاہئے۔یہ دیکھنا چاہئے کہ ان کی روح کیا ہے؟ روح وہی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ﷺ نے بیان فرمائی اور جس پر عمل کیا کہ کوئی غیر ضروری بات نہیں کرنی۔نہ مسجد کے اندر نہ مسجد کے باہر۔مسجد سے باہر نکلنا ہے تو حوائج ضروریہ کی خاطر نکلنا ہے اور وہاں سنگھار پٹار بھی نہیں کرنا اور وہاں وہ زینت بھی نہیں اختیار کرنی جو عام طور پر جائز ہے۔اس حدیث سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے میں اس کے بالکل برعکس نتیجہ نکال رہا ہوں۔آنحضرت کو خود صبح اور شام اپنے گھر میں حوائج ضروریہ کے لئے داخل ہوا کرتے تھے۔وہاں کنگھی اٹھا کر خود بھی کنگھی کر سکتے تھے۔وہاں خود بھی تیل کی مالش سر پہ فرما سکتے تھے لیکن نہیں کیا کیونکہ اسے بنیادی حوائج ضروریہ میں ایسا نہیں سمجھا حوائج ضروریہ کا مطلب یہ ہے انتہائی بنیادی ضرورت ) کہ اس پر بھی وقت لگایا جائے۔ورنہ کئی لوگ ایسے ہیں کہ خصوصا اگر خواتین بھی اعتکاف بیٹھیں تو وہ تو بعض دفعہ آدھا آدھا گھنٹہ اپنے چہرے درست کرنے پر لگا دیتی ہیں۔تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سنت کو گہری نظر سے پڑھنا چاہئے پھر صحیح سبق ملیں گے۔پس اس روایت سے مسجد میں دوسری چیزیں نہ کرنے کا ثبوت تو ملتا ہے، کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔بالکل برعکس نتیجہ ہے۔پس آنحضرت ﷺ کا اعتکاف یہ تھا کہ مسجد سے باہر نکلتے تو محض اتنا فرض ادا کرتے جس کا مسجد میں ادا کرنا ممکن نہ ہو اور جہاں مسجد میں بعض چیزیں کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے وہاں سر باہر نکال لیا، اگر کسی کے لئے ایسا موقع ہو کسی کا گھر اس طرح ساتھ جڑا ہو تو اس کو یہ اجازت ہے مگر اس سے زیادہ کی نہیں۔مگر جہاں تک ضروری امور میں بعض مشوروں کا تعلق ہے وہ مسجد میں رہ کر اعتکاف کی حالت میں بھی ناجائز نہیں ہے۔حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ ایک موقع پر جب آنحضرت می اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو آپ کے خیمے میں گئیں اور وہاں کچھ دیر بعض اہم امور پر آپس میں باتیں