خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد 13 128 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء۔ہے۔دوسرا پہلو اس میں یہ ہے کہ اس غریب کی دعا غیر معمولی طاقت رکھتی ہے، پہنچنے والی دعا ہے۔ایک ضرورتمند کی آپ ضرورت پوری کریں، ایک غریب اور بھوکے کو کھانا کھلائیں اس کے دل سے جو دعا نکلے گی اس کی بات ہی اور ہے، اس کی چھلانگ اور پہنچ ہی اور ہے اور اگر اپنے امیر دوستوں کی دعوت کر دیں اور کھا کر وہ جزاکم اللہ کہہ کر واپس چلے جائیں، اس جزاکم اللہ کو اس دعا سے کیا نسبت ہے؟ یہ جزاکم اللہ تو تھینک یو بھی ہے۔ہر قسم کے شکریہ بہت بہت ، بہت مزہ آیا اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں۔مسلمانوں میں یہ دعا بن جاتی ہے لیکن پھیکی پھیکی دعا، جو بھرے ہوئے پیٹ سے نکل رہی ہو ، کہاں وہ دعا، کہاں ایک بھوکے کی احتیاج دور ہونے پر اس کی دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی دعا۔تو رمضان میں اس قسم کی نیکیوں کی بھی تلاش کریں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی حدیثوں کو اگر قبول کرنا ہے تو صرف اس شرط پر قابل قبول ہیں کہ محمد رسول اللہ کی شان کے مطابق ان کے معنی تلاش کریں اور قرآن کی عظمت کے مطابق ان کے معنی تلاش کریں پھر ان کو قبول کریں۔پھر ان کو اس وہم میں رد کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں کہ شاید یہ آنحضور کا کلام نہ ہو۔پس اس پہلو سے ایک اور نیکی جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ غریب کی ہمدردی ہے۔روزہ کھلوانا ایک (Symbol) ہے اس وقت۔رمضان کے دنوں میں یہ نیکی ایک (Symbol) بن جاتی ہے اور یہ (Symbol) اپنی ذات میں یہاں تک محدود نہیں رہتا اس کا تعلق احتیاج پوری کرنے سے ہے، دکھ درد دور کرنے سے ہے اور کوئی شخص اگر کسی نیک روزے دار کا دکھ دور کرے تو وہ چاہے روزہ کھلوا کر ہو یا اور طریقے سے ہو، وہ ضرور اللہ کے ہاں خاص مرتبہ رکھے گا اور ایسا نیکی کرنے والا خاص جزا پائے گا۔لیکن اس کے علاوہ بھی انسانوں سے ہمدردی رمضان کا حصہ ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ بہت تھی تھے۔بے حد خرچ کرنے والے تھے، مگر رمضان میں تو یوں لگتا تھا کہ ہوائیں آندھی بن گئی ہیں۔اس قدر تیزی پیدا ہو جاتی تھی آپ کے خرچ میں ، اور وہ صرف روزہ کھلوانے کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ روزہ کھلوانے کے متعلق مجھے تو کوئی ایسی روایت معلوم نہیں کہ خالصہ صرف روزہ کھلوایا کرتے ہوں۔وہ بھی ایک خیرات کا حصہ تھا اور ہوتا ہوگا لیکن زیادہ تر غریبوں کی تلاش میں ان کی کھوج لگا کر ان پر خرچ کرنا اور کثرت کے ساتھ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہ وہ نیکی تھی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی سے ثابت ہے۔آپ