خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد 13 127 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام اس سونے سے بھی کم قیمت ہے، کچھ حیا کرو، کچھ غور کرو، کچھ فکر کرو۔یہ ایسا پاکیزہ ، ایسا عجیب کلام ہے جس کی کوئی نظیر پہلے تو پیدا نہیں ہوئی لیکن آئندہ بھی کبھی پیدا نہیں ہوگی اور اگر تم نے ہاتھ سے یہ دولت کھودی تو پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گی۔اس لئے تقوی اختیار کرو، ایسے اصول معلوم کرو جیسے سائنس دانوں نے سونے کی پہچان کے اصول بنارکھے ہیں۔ان اصولوں کا اطلاق ہوتو پتا لگ جائے گا کہ سونا کون سا ہے اور ریت کے ذرے کون سے ہیں ، ہمارا تو یہی مسلک ہے۔پس اس پہلو سے وہ حدیثیں جن میں ایسا ذکر ملتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کی اور ساری عمر کی کمزوریاں غائب اور ہر قسم کے گناہ دھل گئے، تو پھر اگر ان کو اسی طرح مانا جائے ان کی ظاہری شکل میں تو پھر رمضان کی کیا ضرورت ہے۔یعنی رمضان میں سے رمضان کا ہوتا ہوا گز رنے کی کیا ضرورت ہے۔رمضان میں سے غیر کی طرح بھی گزر سکتے ہیں کسی روزے دار کو دودھ پلا دیا اور سارے رمضان کی نیکیاں ہاتھ آگئیں۔پس ان حدیثوں پر غور کی ضرورت ہے اور میرے نزدیک اگر وہ قابلِ قبول ہیں یعنی اگر وہ سچی ہیں تو لازما قابل قبول ہیں اور اگر قابل قبول ہیں تو ان کے اندر کوئی حکمت کی بات تلاش کرنی ہوگی۔بعض دفعہ ایک غریب انسان کی احتیاج یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند آتا ہے اور خاص طور پر اگر ایک نیک انسان خدا کی خاطر روزہ دار ہو اور اتنا غریب ہو کہ روزہ کھولنے کے لئے کچھ بھی اس کو توفیق نہ ہو۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دودھ میں پانی ملا کر ہی پلا دو۔یعنی وہ اتنا غریب ہے بے چارہ کہ یہ بھی توفیق نہیں کہ لبھی کچھی لسی ہی پی لے تو اس وقت یہ ممکن ہے یہ عقل کے خلاف بات نہیں رہتی۔اس وقت ہو سکتا ہے دو طرح سے اس کا اثر ہو ایک تو یہ کہ خدا کے ایسے پاک بندے ایک غریب بندے کی احتیاج پوری کرنے کی جو نیکی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو بطور خاص پسند آتی ہے اور گناہ اس طرح نہیں بخشے جاتے کہ اچانک بخشے گئے۔اس طرح بخشے جاتے ہیں کہ ایسی نیکیاں کرنے والے کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔اس کا دل نیکیوں میں لگ جاتا ہے، اس کی زندگی کی راہیں بدل جاتی ہیں، اس میں ایک روحانی انقلاب بر پا ہو جاتا ہے۔پس بظاہر ایک چھوٹی سی نیکی ہے مگر اس کے ساتھ جو فوائد وابستہ کر کے بتائے گئے ہیں وہ فوائد بعد میں آنے والے، ایک فوائد کا سلسلہ ہیں جو حکمت پر مبنی ہے اور ایک نیکی سے دوسری نیکی پھوٹتی چلی جاتی