خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد 13 129 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء کی سنت سے ثابت ہے۔پس اس حدیث کا یہ ترجمہ کر لینا کہ چاہے لوگ بھو کے مر رہے ہوں کسی طرح کی ضرورتوں میں مصیبت زدہ پھنسے بیٹھے ہوں اس طرف توجہ نہ کر وصرف انتظار کرو جب سورج ڈوبے تو کسی کا روزہ کھلوا دو۔اگر یہ ترجمہ کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کو جھٹلا رہی ہے۔کیسے ہو سکتا ہے کہ اس صادق القول کا فعل آپ کے قول کو جھٹلا رہا ہو کیونکہ آپ کے صادق القول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کہتے تھے سو فیصدی اس پر عمل بھی کرتے تھے تو آپ کی سنت کے نقشے سے آپ کے کسی قول کا ٹکرانا ممکن ہی نہیں ہے۔آپ کے متعلق تو ہم یہی دیکھتے ہیں کہ رمضان مبارک میں بڑی شدت اور تیزی کے ساتھ ہر نیکی میں آگے بڑھتے تھے اور خصوصیت کے ساتھ غریب کی ہمدردی میں اور صدقہ خیرات میں تو آپ کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا، صحابہ کے پاس لفظ ختم ہو جاتے تھے بیان کرتے ہوئے۔کہتے بس یہ سمجھ لو کہ ہوائیں جھکڑ میں تبدیل ہو گئیں۔پس اس پہلو سے اس حدیث کے مضمون کو بھی پیش نظر رکھیں۔ان کو بھی تلاش کریں جومنہ سے مانگتے نہیں ہیں لیکن جن کی ضرورت انتہاء کو پہنچتی ہوتی ہے لیکن محض روزہ کھلنے کے وقت ان پر نظر نہ کریں۔غریبوں نے روزہ رکھنا بھی تو ہوتا ہے اور بھی تو ضرورتیں پوری کرنی ہیں ان کے بچے بھی تو بھو کے ہوتے ہیں جو روزہ کی عمر میں پہنچے ہی نہیں ہوتے۔پس صدقہ و خیرات میں کثرت سے آگے بڑھیں اور جس حد تک کسی کی توفیق ہے وہ اگر خود کسی غریب تک پہنچ سکتا ہے تو پہنچے ورنہ جماعت کی وساطت سے صدقہ و خیرات میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا رمضان مبارک ایک قسم کی عبادتوں کا معراج بن جاتا ہے۔اس مضمون کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے یوں بیان فرمایا:۔إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ بَابٌ وَبَابُ الْعِبَادَةِ الصِّيَامُ۔(جامع الصغیر ) ہر چیز کا ایک رستہ اور ایک دروازہ ہوا کرتا ہے اور عبادت کا دروازہ رمضان ہے۔اگر رمضان میں تم عبادتوں میں داخل نہ ہوئے تو پھر کبھی نہیں ہو گے۔اس کے بہت سے معانی ہو سکتے ہیں لیکن ایک معنی جو عام فہم اور روز مرہ ہمارے مشاہدے میں ہے وہ یہ ہے کہ جس کو رمضان میں عبادت کی توفیق نہ ملے اس کو سارا سال عبادت کی توفیق نہیں ملتی۔پس یہ وقت ہے عبادت کرنے کا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زمین کے دروازے تو بند رکھو اور اس