خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد 13 126 خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1994ء قرآن پڑھنے کی اور قرآن پر غور کرنے کی تو توفیق ہمیں عطا ہوتی ہے۔پس وہ حدیثیں جن کا مضمون قرآن سے ٹکراتا ہو یا واضح طور پر قرآن ان کی تائید یا پشت پہ نہ کھڑا ہوان حدیثوں کے متعلق احتیاط اختیار کرو۔اگر کوئی ایسا مضمون اس میں سے تلاش کر سکتے ہو جو حدیث کو چھوڑے بغیر قرآن اور دیگر احادیث کی تائید میں ہو تو اختیار کر لو۔ورنہ ادب کے ساتھ اس حدیث کو اس خیال سے ترک کر دو کہ یہ ہمارے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا۔پس ایسی حدیثوں کے متعلق میں نے ایک دفعہ غور کیا تو مجھے ایک عجیب بات دکھائی دی۔مجھے یاد ہے ربوہ میں وقف جدید میں ایک مضمون کے لئے مجھے بہت کثرت سے حدیثوں کی ضرورت تھی جن میں سے میں نے خود تلاش کرنی تھی اور ایک بھاری تعداد ان حدیثوں کی جو مجھے پیش کی گئی، بغیر حوالہ دیکھے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ صحاح ستہ میں سے ناممکن ہیں اور اگر اتفاقا صحاح ستہ میں کوئی روایت جگہ پا بھی گئی ہے تو انسان تحقیق کر کے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔چنانچہ وہ جنہوں نے اکٹھی کی تھیں میں نے ان سے کہا کہ یہ حدیثیں مجھے لگتی ہیں کہ بعد کے زمانے کی بیہقی کی یا کسی اور زمانے کی ہیں اور یہ اولین زمانے کی حدیثیں نہیں ہیں اور عجیب بات تھی کہ سو فیصدی یہ اندازہ درست نکلا۔وہ تمام حدیثیں یا بیہقی کی تھیں یا بعد کے کسی اور زمانے کی تھیں۔تو لوگ اپنے مطلب کی تلاش میں جب بے احتیاطی سے حدیثوں کو اختیار کرتے ہیں تو اس سے حدیثوں پر ایمان کو تقویت نہیں ملتی بلکہ نقصان پہنچتا ہے۔اسی بے احتیاطی کے نتیجے میں یہ جو تحریکات چلی ہیں چکڑالوی، اہل قرآن والی انہوں نے امت کو بہت شدید نقصان پہنچایا ہے۔بعض لوگوں کو عظیم خزانوں سے محروم کر دیا ہے۔ساری امت کو تو نہیں لیکن امت میں ایک افتراق کی بناڈالی اور ان کے ایک حصہ کو گمراہ کر دیا اور محروم کر دیا۔ایک دفعہ ایک اہلِ قرآن سے میری گفتگو ہوئی مجھے اس نے کہا کہ یہ تو ثابت ہے نا آپ مانتے ہیں کہ غلط حدیثوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو راہ پا گئی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف منسوب ہوگئی تو جب کھوٹ مل گیا تو ہم اس کو رد کرتے ہیں۔میں نے کہا تم یہ جانتے ہو کہ سونا کس طرح تلاش کیا جاتا ہے۔بعض دریاؤں کے کناروں پر ریت کے انبار میں چند ذرے سونے کے ہوتے ہیں اور سارا دن وہاں عورتیں اور بچے بے چارے بیٹھ کر سردی اور گرمی میں محنت کرتے ہیں۔ان چند ذروں کی تلاش میں ڈھیروں ریت کے ذروں کو نکال کر رد کر کے الگ پھینکنا پڑتا ہے۔تو کیا