خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 125

خطبات طاہر جلد 13 125 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء حضرت امام بخاری علیہ الرحمتہ کے متعلق یہ روایت آتی ہے۔بڑی آپ نے محنت کی ساری زندگی یعنی زندگی کا وہ فعال حصہ جو ہوش مندی کے بعد آپ کو نصیب ہوا آپ نے حدیث کی خدمت میں صرف کیا ہے، چھان بین میں صرف کیا ہے۔آپ ایک دفعہ ایک روایت کی تلاش میں نکلے کہ پتا تو کروں کہ وہ راوی تھا کون اس زمانے میں جس نے یہ حدیث اپنے پہلوں سے بیان کی ہے۔لمبے سفر کئے، خرچ کیا، محنت اٹھائی اور جب پہنچے آخر اس شہر میں جس میں بتایا گیا کہ ایک صوفی صاحب ہیں ایک تہہ خانے میں رہتے ہیں بہت بزرگ انسان ہیں ان کی روایت ہے۔تو ان تک پہنچے ان سے پوچھا کہ آپ کے متعلق بہت شہرہ ہے بہت نیک اور تقویٰ شعار انسان ہیں ایک روایت مجھے آپ کی طرف منسوب ہوئی ملی ہے اور میں تحقیق کے لئے آپ سے خود سننے کے لئے آیا ہوں۔بتائیے یہ روایت آپ نے کس سے سنی تھی وہ شخص زندہ ہے تو بتا ئیں میں پھر جا کے اس سے بھی پوچھوں تو انہوں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ بنائی ہے۔کہا آپ نے بنائی ہے؟ کہا ہاں یہ دیکھو یہ سارا انبار یہ دفتر جو پڑے ہوئے ہیں روایتوں کے، یہ میں بیٹھا بنا رہا ہوں یہی تو میری نیکی ہے عمر بھر کی کہ نیک کاموں کے لئے لوگوں کو اس طرح ترغیب دے رہا ہوں حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا، یہ بحث نہیں اٹھائی کہ اچھی ہے یا بری، بری بات کے منسوب کرنے کی تو کسی کو جرات ہو ہی نہیں سکتی سوائے اس کے کہ اپنے نفس کے بہانے کے لئے کوئی تاویل تراش لے مگر اکثر اچھی باتیں منسوب کی جاتی ہیں، فرمایا جو کوئی بھی میری طرف کوئی بات منسوب کرے گا جو میں نے نہ کہی ہو تو اپنے لئے جہنم میں جگہ بنائے گا۔مگر بعض نادان ایسے تھے جن کو علم نہیں تھایا یہ حدیث بھی نہیں پہنچی ہوگی۔ہم نہیں کہہ سکتے انہوں نے کہاں جگہ بنائی اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ایسی روایتیں تھیں اور بہت سی ایسی احادیث ہیں اس مضمون سے تعلق رکھنے والی جن میں دکھائی دیتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مزاج کے خلاف ہیں اور جس گہرے سائنٹفک مذہب کی طرف آپ بلانے والے ہیں، جس کی بنیاد میں ٹھوس عقل پر اور انسانی تجربے پر قائم ہیں اور جو آسمان سے ہدایت یافتہ مذہب ہے جس کا مزاج قرآن کے عین مطابق ہے اس کے برعکس بات آپ کیسے کہہ سکتے ہیں۔اس لئے جو بہت سے اہل اللہ ہیں انہوں نے ایک یہ بھی رستہ تجویز کیا احادیث کی پر کچھ کا کہ راویوں کے متعلق تو ہم تحقیق کرنے کی توفیق نہیں رکھتے اور جو ہو چکی ہو چکی لیکن الله