خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 115

خطبات طاہر جلد 13 115 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء اٹھ پہرہ روزہ حرام ہے یہ نہیں ہو سکتا۔اب دیکھیں جہالت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔روزے کا ایک مزاج ہے اس کا مقصد خدا کو پانا ہے،اس کا مقصد ہر نیکی کو اپنے عروج تک پہنچانا ہے۔پس ہر وہ بات جو اس شان کے خلاف ہو وہ انسان کو نیکی سے پرے پھینک دے گی۔تقویٰ اختیار کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روزے کا مقصد تقویٰ بتایا ہے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔دوسری روایت بخاری کتاب الایمان سے لی گئی ہے اس میں حضرت ابو ہریرہ عرض کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبِه ( بخاری کتاب الایمان ) جس نے بھی رمضان کو ایمان کے ساتھ اور احتساب کے ساتھ یعنی اپنے نفس کا مسلسل جائزہ لیتے ہوئے گزارا اور اس کا حق ادا کیا تو اس کا پھل یہ ملے گا کہ اس کے تمام گزشتہ گناہ بخشے جائیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: در محضرت ماه رمضان شریف میں بہت عبادت کرتے تھے ان ایام میں کھانے پینے کے خیالات سے فارغ ہو کر اور ان ضرورتوں سے انقطاع کر کے تبتل الی اللہ حاصل کرنا چاہئے۔‘ ( تقاریر جلسہ سالانہ 1906ء صفحہ: 20 تا21) یہ ایک ایسا مضمون ہے جسے عموما بھلا دیا جاتا ہے اکثر جو بے چارے نیکی کے آغاز میں بعض نیکیاں اختیار کرتے ہیں وہ پرانی باتوں کے کچھ سہارے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کو خدا کی خاطر بھوکا رہنے کی عادت نہیں ہے یا اس پر دوبھر ہے تو وہ دن بھر تو افطاری کی تیاری کرتا ہے اور رات بھر سحری کی تیاری کرتا ہے اور انہی خیالات میں اس کے دن اور رات گزرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھیں کیسے مرض کو پہچانا ہے اور کیسا عمدہ علاج تجویز فرمایا ہے۔نحضرت ﷺ رمضان شریف میں بہت عبادت کرتے تھے ان ایام میں کھانے پینے کے خیالات سے فارغ ہو کر ( باقی گیارہ مہینے بے شک خیال رکھ لینا مگر ان ایام میں ان خیالات سے فارغ ہو جایا کرو ) اور ان ضرورتوں سے انقطاع کر کے تبتل الی اللہ حاصل کرنا چاہئے تاکہ تمہاری تمام توجہ اللہ ہی کی طرف ہو اور اس میں روزے کی یہ حکمت بھی بڑے پیارے انداز میں بیان فرما دی کہ روزہ تقبل کے لئے ہے اور تکلیف کی خاطر بھوک اور پیاس نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ تبتل