خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد 13 114 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء ہیں، لمبی لمبی امیروں کی امیروں کے ساتھ مجالس، بعض عرب ملکوں میں ، بلکہ شاید عرب ملکوں میں تو یہ رواج ہے کہ ساری ساری رات کھاتے پیتے اور بعض علاقوں میں تو ناچتے گاتے بھی ہیں اور ساری رات مجلسیں لگاتے ہیں اپنے گھروں سے کچھ کھانا اکٹھا کر کے لے آتے ہیں اور وہ كُلُوا جَمِيعًا (النور: 62) ہوتا ہے اس طرح وہ صبح کا انتظار کرتے ہیں اور پھر جب روزے کا وقت آئے تو شاید سحری کھانے کا تو کوئی وقت ہی نہیں ، توفیق ہی نہیں ملتی ہوگی۔تو اس وقت کھانا پینا بند کیا اور روزہ شروع ہو گیا۔ایمان کا تقاضا یہ تو نہیں ہے۔ایمان کا تقاضا تو وہ ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ نے پورا فرمایا کرتے تھے۔روایات میں آتا ہے کہ عام دنوں میں بھی آپ اپنی راتوں کو جگاتے تھے مگر رمضان میں جس شدت سے جگاتے تھے اس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔عام دنوں میں بھی آپ دن کو نیکیاں کرتے تھے۔عام دنوں میں بھی آپ تغریب پروری فرماتے تھے۔مگر رمضان کے مہینے میں تو اس کی شکل ایسے ہو جاتی تھی جیسے عام بارش موسلا دھار بارش میں تبدیل ہو جائے۔اس طرح نیکی ہر طرف سے برسنے لگتی تھی۔پس اس کو کہتے ہیں، ایمان کا حق ادا کرنا اور اس سلسلے میں احتساب لازم ہے۔انسان بظاہر سمجھتا ہے کہ رات کو مجلس لگانے میں کیا حرج ہے؟ کب منع ہے۔روزے کا وقت شروع ہوگا تو پابندی شروع ہو گی مگر اس مزاج سے مختلف بات ہے، روزے کے مزاج کے خلاف ہے کہ راتوں کو لغو مشاغل میں صرف کیا جائے۔بعض لوگ تو اس حد تک اس معاملے میں بے چارے لاعلم اور جاہل ہوتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے پیجیئم کے مبلغ صاحب کا فون آیا کہ میں تو بڑی مشکل میں پڑ گیا ہوں ، کیا جواب دوں۔ہنس رہے تھے، مراد یہ تھی کہ آپ بھی سن لیں کیا قصہ ہوا۔کہتے ہیں چار پاکستانی لڑکے جو کیم میں رہتے ہیں انہوں نے مجھے تہجد کے وقت فون کیا اور کہا کہ ایک ہمارا آپس میں اختلاف ہو گیا ہے آپ بتائے حقیقی مسئلہ کیا ہے تو میں نے کہا فرمائیے کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا ہم شراب کے عادی ہیں تو چونکہ سارا دن شراب نہیں پینی ہوتی ہم نے فیصلہ کیا ہے ساری رات شراب پئیں گے، وہ تو خیر ٹھیک ہے اس میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ روزے سے تھوڑا سا پہلے شراب چھوڑ دینی چاہئے کیونکہ شراب سے روزہ نہیں ہوسکتا اور میرے ساتھی بعض کہتے ہیں کہ نہیں اگر ہم نے شراب چھوڑ دی تو اٹھ پہرہ روزہ بن جائے گا اور