خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 116

خطبات طاہر جلد 13 116 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء کے ذریعے یہ لازم ہے کہ اللہ کی طرف توجہ پھیرنی ہے اور تبتل کے بغیر گزارا نہیں ہے۔تمہیں سبق دینا ہے کہ کس طرح دنیا سے توجہ کاٹ کر خدا کی طرف مائل کی جاتی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں ایک وہ جس نے رمضان پایا پھر رمضان گزر گیا اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے۔“ یعنی اس نے رمضان کو اِيْمَانًا اور احْتِسَابًا نہیں گزارا۔اب یہ جو بحث ہے کہ گناہ بخشے گئے تھے کہ نہیں گئے تھے یہ بظاہر بڑی مشکل بحث دکھائی دیتی ہے کوئی سمجھتا ہوگا بخشے گئے کوئی سمجھتا ہوگا نہیں بخشے گئے بعض لوگ بعد میں بے چارے روتے ہیں دعائیں کرتے ہیں او ہورمضان گزر گیا اور پھر بھی ہم کچھ نہ کر سکے اور : اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے اس مضمون پر شعراء نے اپنی حسرتوں کا بیان کیا ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے رمضان ہی کے تعلق میں غالبا ایک نظم اس رنگ میں کہی تھی کہ وقت آیا، نیکیوں کا سماں آیا بہار آئی اور گزر گئی ہم نے کچھ چیز میں چھوڑیں کچھ نہ چھوڑیں لیکن ماحصل یہ ہے نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔وہ بزرگ جو احتساب کرتے ہیں یہ ان کا تصور ہے کہ آیا ہم نے ایمان کے ساتھ رمضان گزارا ہے کہ نہیں۔تو اس تصور میں یعنی اس احتساب میں زیادہ عاجزی اختیار کر جاتے ہیں۔پس جو کمی بھی رہ جاتی ہوگی اللہ اس عاجزی کی خاطر اسے دور فرما دیتا ہوگا لیکن کچھ لوگ ہیں جن کو پتا ہی نہیں کہ ہم نے کچھ حاصل بھی کیا کہ نہیں کیونکہ رمضان گزرتے ہی اس تیزی سے وہ واپس دوڑتے ہیں ان سب باتوں کی طرف جو پہلے کیا کرتے تھے کہ جیسے کوئی لمبا غوطہ مار کر دوسری طرف سرنکالتا ہے گھبرا کر سر جھاڑتا ہے اور سانس لینے کی کرتا ہے تو یہ سانس بند کر کے رمضان میں جاتے ہیں اور اتنی تکلیف ہوتی ہے پر لے کنارے تک پہنچتے پہنچتے کہ بڑی تیزی سے پھر وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہیں۔جو چیز میں چھوڑی ہوئی تھیں جو بدیاں