خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 973 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 973

خطبات طاہر جلد ۱۲ 973 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء جلوے دکھاتا ہے اور سبحان اللہ کا مضمون وزن اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔توثقيلتان فی المیزان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہلکے پھلکے گلے نہیں ہیں۔منہ سے تم نے چھوٹی سی بولی لگا دی ہے۔اس کے پیچھے بڑ اوزن ہے۔غیر معمولی بہت ہی بھاری مضمون ہے جو تم بیان کر رہے ہو اور یہ مضمون جتنا بھاری ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی خدا کو پسند آتا چلا جاتا ہے۔حبیبتان الى الرحمن یہ دونوں کلے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ کلمہ کہنے والا اتنا ہی زیادہ اللہ کا قریب ہوتا ہے، اس کا محبوب بنتا چلا جاتا ہے۔دوسرا حصہ ہے سبحان الله العظیم کہ اللہ عظیم ہے۔عظمت کا مضمون حمد سے تعلق رکھتا ہے۔پس جہاں سبحان الله و بحمدہ نے حمد کہہ کر ایک دروازہ کھولا گیا ہے کہ صرف سبحان الله نہیں کہنا بلکہ حد بھی کرنی ہے۔وہاں سبحان الله العظیم نے وہ حمد کا ایک لامتناہی سلسلہ آپ کے سامنے کھول کے رکھ دیا ہے۔ایک ایسی دنیا میں آپ کو لے جاتا ہے۔سبحان الله العظیم کا کلمہ کہ جہاں ہر طرف حمد ہی حمد ہے۔مگر ان دونوں میں ایک فرق ہے۔سبحان کے ساتھ حم کا تعلق ہے، سبحان کا مضمون جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی حمد کا مضمون ساتھ ساتھ پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور یہاں تک کہ آپ کی دنیا صرف حمد کی دنیا رہ جاتی ہے اور وہ دنیا جس کا ذکر ہے سبحان اللہ العظیم میں۔بعض لوگ یہ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اعظم نہیں کہا گیا حالانکہ اکبر کہا گیا ہے اور بہت سی جگہوں پہ خدا کا سب سے بڑا ہونا ، سب سے زیادہ علم والا ہونا ، سب سے زیادہ اپنی دوسری صفات میں تمام دوسرے بظاہر صفات میں مشابہ لوگوں سے آگے اور برتر ہونا یہ مضمون نظر آتا ہے۔مگر عظیم کے تعلق میں کہیں اعظم نہیں فرمایا گیا۔چنانچہ جرمنی کے اجتماع میں ایک دفعہ ایک عرب دوست نے مجھ سے یہ سوال کیا تھا اور اس پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا وہ میں نے اسے سمجھایا بعد میں مزید تحقیق کی تو پتا چلا کہ لفظ عظیم میں جو عظمت پائی جاتی ہے وہ لفظ اعظم میں نہیں پائی جاتی۔عظیم ایک ایسے وجود کو کہتے ہیں جو اپنی ذات میں ہر صفت میں ایک ایسی شان رکھتا ہو کہ اس کی عظمت سے گویا ساری کائنات بھر گئی ہے اور ہر بری چیز کے مقابل پر جو اچھی صفت ہے وہ اس کے حامل کو عظیم کہتے ہیں۔مثلا چھوٹی گھٹیا بات نہیں کرنی کسی کی دل آزاری نہیں کرنی ، پیار کا سلوک کرنا ہے۔جتنی بھی صفات روز مرہ آپ کی زندگی میں آپ کو اچھی لگتی ہیں۔جس چیز میں ، جس شخص میں پائی جائیں گی وہ