خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 972 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 972

خطبات طاہر جلد ۱۲ 972 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے نفس کو پاک کرتے چلے جانا کیونکہ نا پاک جگہ پر پاک وجود نہیں آیا کرتے۔پس اللہ کے لئے دل کی صفائی کرنا ان معنوں میں ہو کہ کچھ جگہ تھوڑی سی اب صاف کر لی کچھ بعد میں اور ہمیشہ جگہ کی صفائی جاری رہے۔بعض دفعہ اچانک مہمان آجاتے ہیں تو انسان کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ سارا گھر ایک دم صاف کر سکے تو تھوڑی سی جگہ بنا لیتے ہیں۔بھاگ دوڑ کر بچے بھی حصہ لیتے ہیں مائیں بھی ، سب دوڑتے ہیں کہ ایک کمرہ ہی جلدی سے صاف کر لو اور اس کے جو گندے کپڑے اور سامان جو وہاں بکھرے ہوتے ہیں سب اٹھا اٹھا کر ایک کمرے میں پھینک دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو جب مہمان بنانا ہے تو انبیاء کا مقام تو بلند ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا تو بہت بلند تر تھالیکن روزمرہ کی زندگی میں ہمیں بھی کچھ نہ کچھ سبحان کا مضمون اپنے نفس میں جاری کرنا ہوگا تھوڑی سی جگہ بنالیں اور واقعہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ پاک آدمی پاک جگہ پہ بیٹھتا ہے، پاک جگہ کو پسند کرتا ہے یہ درست ہے مگر یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر اس گھر میں اور کوئی گندی جگہ ہوگی تو وہ اس گھر کو چھوڑ کر چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ وہ اپنے بندے کی ایک تھوڑی سی جگہ بھی اگر صاف دیکھے تو اس جگہ سے تعلق جوڑ لیتا ہے اور پھر اس کے قرب کا احساس اردگرد کے ماحول کو پاک صاف کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور رفتہ رفتہ گھر صاف ہونے لگتا ہے۔تو جتنا سبحان اللہ کا مضمون ذہن میں وسعت اختیار کرے اور جتنا یہ آپ کی دنیا کے عمل میں ڈھلتا چلا جائے اتنا ہی اس مضمون میں وزن پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت مہ جب سبحان اللہ کہتے تھے تو آپ کا سارا وجود گواہ تھا کہ میں واقعہ اللہ تعالیٰ کو پاک سمجھتا ہوں۔اتنے یقین کے ساتھ پاک سمجھتا ہوں اور پاکی کی میری نظر میں اتنی قیمت ہے کہ خدا کی پاکی پر جہاں جہاں نظر پڑتی ہے میں وہاں وہاں اپنے وجود کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے۔اس وجود کو بھی پاک کرتا چلا جاتا ہوں۔تو دراصل یہ لا الہ کا سفر ہے۔سبحان الله الله کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو بھی ہے ناپاک ہے اور خدا نا پاک نہیں ہے اس لئے ظاہر بات ہے کہ ہر نا پا کی کالعدم ہے اس کی حیثیت ہی کوئی نہیں رہتی۔اس کو مٹادینا ضروری ہے۔وہ بے وجہ، بے حق ، ناحق بیٹھی ہوئی ہے وہاں اور لا الہ اس طرح انسان کے دل پر جاری ہوتا ہے اس کے اعمال میں