خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 971
خطبات طاہر جلد ۱۲ 971 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء رہے ہیں۔مجھ سے جو مانگ رہے ہیں میں نے دے تو دیا ہے۔لیکن وہ ایسا ہے کہ ان کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا اور یہی بات ہے جو قرآن کریم نے جنت کے متعلق بیان فرمائی ہے۔کسی آنکھ نے نہیں دیکھی کسی کان نے نہیں سنی ، ان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ زمین و آسمان پر ساری کائنات پر محیط ہے۔تو ذکر الہی کرتے ہوئے چند منٹ میں آپ کتنے بڑے بڑے سودے کر لیتے ہیں اور ساری کائنات خدا سے لے لیتے ہیں اور آپ کو پتا نہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کتنی بڑی بڑی چیزیں ملتی ہیں۔الله اسی لئے آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ دو کلمات ہیں کلمتان خفیفتان ، ہلکے پھلکے ہیں۔حبيبتان الى الرحمن اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ہلکے پھلکے ہیں لیکن ثقيلتان في الميزان وزن میں بہت بھاری ہیں۔حبیبتان الی الرحمن اللہ کو وہ دونوں بہت پیارے کلمے ہیں۔وہ کیا ہیں۔سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔پاک ہے اللہ حد کے ساتھ سبحان الله العظیم وہ اللہ پاک ہے جو بہت عظیم ہے۔تو یہ دو کلموں میں جو سودے ہیں وہ بہت بھاری ہیں۔یہ مراد ہے میزان ان کا بہت بھاری ہے اور زبان پر ہلکے ہیں۔( بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۵۹۲۷) اب سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔پر ہی غور کریں تو جتنا آپ اس میں ڈوبتے چلے جائیں گے اتنا ہی مضمون اور گہرا ہوتا دکھائی دے گا بلکہ محسوس ہوگا۔جتنا اس مضمون میں سفر کریں اتنا یہ مضمون پھیلتا چلا جاتا ہے۔سبحان اللہ کا مطلب ہے کہ اللہ پاک ہے۔اور کس کس چیز سے پاک ہے۔اس پر غور کریں تو پھر تسبیح ہو گی ورنہ خالی زبان سے کہہ دینے سے بات بنے گی نہیں۔وزن ان میں پیدا ہوتا ہے مگر ہر قاری کے لحاظ سے مختلف وزن پیدا ہوتا ہے۔جب آنحضرت ﷺ سبحان اللہ کہتے تھے۔تو ایک عام قاری کی طرح سبحان اللہ نہیں کہتے تھے بلکہ ساری زندگی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے سے پاک کیا تھا اور ساری زندگی اس تلاش میں رہے کہ کوئی ذرہ بھی ایسا نہ ہو جو خدا تعالیٰ کے عظمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرے دل کی دنیا کو اس لائق نہ ٹھہرائے کہ اس میں خدا تعالیٰ جلوہ گر ہو۔صلى الله یہ آنحضرت ﷺ کی ایک سوچ تھی۔جو آپ کی ساری زندگی میں ہر طرف ہمیں آپ کے اقوال سے بھی اور آپ کے اعمال سے بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔سبحان اللہ کا یہ معنی پھر بنتا ہے