خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 970
خطبات طاہر جلد ۱۲ 970 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء کا کیا حال ہوا گر وہ میری آگ دیکھ لیں ؟ پھر فرشتے کہتے ہیں کہ وہ تیری بخشش طلب کرتے تھے۔اس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کہتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انہوں نے مجھ سے مانگا اور میں نے ان کو پناہ دی۔اس چیز سے جس سے انہوں نے میری پناہ طلب کی۔اس پر فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ان میں فلاں غلط کار شخص بھی شامل تھا وہ وہاں سے گزر رہا تھا ذ کر کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو تماش بین کے طور پر ان میں بیٹھ گیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے میں نے اس کو بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بد بخت نہیں رہتا۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر: ۴۷۵۴۰) اب ذکر الہی کا بیان اس سے بہتر تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ایسا بیان جو ذکر الہی کی محبت پیدا کر دیتا ہے دل اس سے پگھلنے لگتا ہے۔اس میں خاص طور پر یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔تو انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں دیکھی۔فرماتا ہے اگر وہ دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ جو دعا ئیں ہم کر رہے ہیں۔ان دعاؤں کی کنہ سے ہم خود واقف نہیں ہیں۔بعض دفعہ ایک انسان غلطی سے ایک سودا کر لیتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ یہ تو بہت ہی بری چیز تھی۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ ایک سادہ لوح زمیندار کراچی گھومتا پھر تامنی مارکیٹ میں چلا گیا۔جہاں بہت بڑے بڑے سودے ہو رہے تھے۔پیسوں کے حساب سے کہ ایک پیسہ ایک دھیلا اس میں اضافہ ہو گیا ایک پائی اضافہ ہو گیا وہ سمجھا کہ کوئی چیز بک رہی ہے اور پائیوں اور دھیلوں اور پیسوں کے حساب سے بولیاں بڑھ رہی ہیں۔تو اس نے بھی ساتھ بولی دینی شروع کر دی کہ اچھا پھر ایک دھیلا میرا ایک پیسہ لکھ لو میرے دو پیسے لکھ لو۔تو سب حیران ہو گئے اور ششدر رہ گئے وہ سمجھے کہ بہت ہی بڑا کوئی سیٹھ آ گیا ہے اس سے مقابلہ ممکن نہیں۔چنانچہ اس کے نام بولی لکھی گئی۔جو کروڑوں کی تھی اور اس کو بیچارے کو علم نہیں تھا کہ سودا کیسا ہوا ہے۔اچانک خبر آئی کہ اس ، جس کا بھی سودا ہورہا تھا وہ ایک دم اس کی قیمت بڑھ گئی ہے۔تو سارے سیٹھ اس پر ٹوٹ پڑے کہ نقد و نقد ہم سے اتنا منافع لو اور یہ سودا ہمارے نام کر دو۔تو ویسا ہی نقشہ اللہ کھینچ رہا ہے فرمایا وہ تو سادہ زمیندار کی طرح ہیں بولی کس بات کی دے